مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38809 ترقیم الشثری: -- 40448
٤٠٤٤٨ - قال: وحدثنا ابو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) علية عن ابن عون عن الحسن قال: انباني وثاب وكان فيمن ادركه عتق امير المؤمنين عمر، فكان يكون بين يدي عثمان، قال: فرايت (في) (٢) حلقه طعنتين كانهما كيتان طعنهما يوم الدار (دار) (٣) عثمان، قال: بعثني امير المؤمنين عثمان فقال: ادع الاشتر، فجاء -قال ابن عون: اظنه قال: فطرحت لامير المؤمنين وسادة، (وله وسادة) (٤) فقال: يا اشتر، ما (يريد) (٥) الناس مني؟ قال: ثلاث ليس من إحداهن بد، يخيرونك (بين) (٦) ان تخلع لهم امرهم، فتقول: هذا امركم، فاختاروا له من شئتم، وبين ان (تقص) (٧) من نفسك، فإن ابيت ⦗٤٠٥⦘ هاتين فإن القوم قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، فقال: [اما ان اخلع لهم امرهم فما كنت لاخلع لهم سربالا سربلنيه الله ابدا (٨) . - قال ابن عون: وقال غير الحسن: لان اقدم فتضرب عنقي احب إلي من ان اخلع امة محمد بعضها على بعض (٩) ، (و) (١٠) قال ابن عون: وهذه اشبه بكلامه. - (واما) (١١) ان (اقص) (١٢) لهم من نفسي، فوالله لقد علمت ان صاحبي بين يدي كانا (يقصان) (١٣) من انفسهما وما (يقوم) (١٤) بدني بالقصاص، وإما (ان) (١٥) (يقتلوني) (١٦) فوالله لئن قتلوني لا (يتحابون) (١٧) بعدي ابدا، ولا يقاتلون بعدي جميعا عدوا ابدا؛ فقام الاشتر فانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس؛ ثم جاء (رويجل) (١٨) كانه (ذئب) (١٩) ، فاطلع من الباب ثم رجع، ثم جاء محمد بن ابي بكر في ثلاثة عشر رجلا حتى انتهى إلى عثمان فاخذ بلحيته فقال (بها) (٢٠) حتى سمعت وقع اضراسه وقال: ما اغنى عنك معاوية، ما اغنى عنك ابن عامر، ما اغنت عنك ⦗٤٠٦⦘ كتبك، فقال: ارسل (لي) (٢١) لحيتي يا ابن اخي، ارسل لي لحيتي يا ابن اخي، قال: فانا رايته استعدى رجلا من القوم بعينه فقام إليه بمشقص حتى وجا به في راسه فاثبته ثم مر، قال: ثم دخلوا عليه -والله- حتى قتلوه (٢٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أبو).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [ط، هـ]، وفي [ب]: (له وسادة).
(٥) في [ع]: (تريد).
(٦) سقط من: [أ، ب، جـ، س]، وتقدم في المغازي بإثباتها.
(٧) في [س]: (نقص).
(٨) مجهول لجهالة وثاب، أخرجه الطبراني (١١٦)، وابن سعد ٣/ ٧٢، وخليفة بن خياط ١/ ١٧٠، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٦٤، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٤.
(٩) منقطع؛ فيه جهالة، لم يبين ابن عون شيخه.
(١٠) سقط من: [جـ].
(١١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (لا).
(١٢) في [أ، ب]: (أقض).
(١٣) في [أ، ب]: (يقضان).
(١٤) في [س]: (تقوم)، وفي [ع]: (يقوى).
(١٥) في [س]: مكررة.
(١٦) في [ب]: (تقتلوني).
(١٧) في [أ، ب، هـ]: (يتحاربون).
(١٨) في [س]: (ويجل).
(١٩) في [ب]: (فوثب)، وفي [ق]: (ذؤيب).
(٢٠) سقط من: [أ، ب].
(٢١) سقط من: [أ، ب].
(٢٢) مجهول؛ لجهالة وثاب، أخرجه الطبراني (١١٦)، وابن سعد ٣/ ٧٢، وخليفة بن خياط ١/ ١٧٠، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٦٤، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٤.
حضرت وثاب سے روایت ہے جن کو امیر المؤمنین عمر نے آزاد کیا تھا وہ حضرت عثمان کے سامنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان کے حلق میں دو نیزے دیکھے جیسا کہ دو داغنے کی جگہ میں داغنے کے آلے ہوتے ہیں جو حضرت عثمان کو ان کے گھر میں مارے گئے وہ کہتے ہیں (راوی وثاب) کہ مجھے امیرامؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا کہ میرے لیے اشتر کو بلا کر لاؤ پس وہ آیا اور حضرت عثمان اور اس أشتر کے لیے ایک تکیہ رکھا گیا حضرت عثمان نے پوچھا اے أشتر لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ تین باتوں میں سے کسی کے (اختیار کیے بغیر چارہ) نہیں ایک وہ آپ کو اختیار دیتے ہیں اس بات میں کہ آپ ان کے لیے خلافت کے امر کو چھوڑ دیں اور ان سے کہہ دیں کہ یہ تمہارا امر خلافت ہے اس کے لیے جس کو چاہتے ہو چن لو اور اس کے درمیان کہ آپ اپنی ذات کو قصاص کے لیے پیش کردیں پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو بلاشبہ یہ لوگ آپ سے قتال کریں گے حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر چارہ نہیں ہے تو اس نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے پس حضرت عثمان نے فرمایا کہ باقی رہی یہ بات کہ میں ان کے لیے ان کے امر خلافت سے الگ ہوجاؤں تو کبھی اس قمیص کو نہیں اتاروں گا جسے اللہ رب العزت نے مجھے ہمیشہ کے لیے پہنایا ہے ابن عون راوی کہتے ہیں کہ حسن کے علاوہ دوسرے راویوں نے یوں نقل کیا ہے کہ یوں فرمایا کہ میں آگے بڑھوں اور میری گردن ماردی جائے یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دوسرے سے لڑائی کرتا ہوا چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ یہ ان کے کلام کے زیادہ قریب ہے۔ اور باقی رہی یہ بات کہ میں اپنی ذات کو ان کے سامنے قصاص کے لیے پیش کروں تو یقینا میں جانتا ہوں کہ مر سے دو ساتھی میرے سامنے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے اور میرا بدن قصاص کے قابل نہیں اور اگر وہ مجھے قتل کردیں تو اللہ کی قسم اگر انہوں نے مجھے قتل کردیا تو میرے بعد کبھی بھی وہ آپس میں محبت نہیں کریں گے اور میرے بعد وہ اکٹھے کبھی بھی کسی دشمن سے قتال نہیں کرسکیں گے پس أشتر کھڑا ہوا اور چلا گیا ہم تھوڑی دیر ٹھہرے ہم نے کہا شاید کہ لوگ ہیں پھر رو یحل آیا گویا کہ وہ بھیڑیا ہے اس نے درازے سے جھانکا پھر لوٹ گیا پھر محمد بن ابی بکر آئے تیرہ آدمیوں میں یہاں تک کہ حضرت عثمان تک پہنچے اور ان کی داڑھی کو پکڑا اور اسے کھینچا یہاں تک کہ میں نے ان کی داڑھیں گرنے کی آواز سنی اور کہا نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں معاویہ نے اور نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں ابن عامر نے اور نہ فائدہ دیا تمہیں تمہارے لشکر نے انہوں نے فرمایا کہ میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے راوی نے فرمایا کہ محمد بن ابوبکر کی طرف انہوں نے دیکھا کہ اپنے مدد کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی سے مدد طلب کر رہے تھے وہ آدمی ان کی طرف نیزہ کا پھل لے کر کھڑا ہوا یہاں تک کہ اسے ان کے سر میں مار دیا پس اسے ٹھہرا دیا فرمایا پھر کیا ہوا فرمایا پھر وہ داخل ہوئے اور اللہ کی قسم انہوں نے ان کو شہید کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40448، ترقيم محمد عوامة 38809)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40448 in Urdu