🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38821 ترقیم الشثری: -- 40460
٤٠٤٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت سماك بن حرب قال: سمعت حنظلة بن (قنان) (١) ابا محمد (من) (٢) بني عامر بن ذهل قال: اشرف علينا عثمان من كوة وهو محصور فقال: افيكم ابنا (مجدوح؟) (٣) فلم يكونا ثم، كانا نائمين، (فاوقظا) (٤) فجاءا، فقال لهما عثمان: اذكركما الله، الستما (تعلمان) (٥) [ان عمر قال: إنما ربيعة فاجر او غادر، فإني والله لا اجعل (فرائضهم) (٦) وفرائض قوم جاءوا ⦗٤١١⦘ من مسيرة شهر، فهاجر احدهم عند (طنبه) (٧) ، ثم زدتهم في غداة واحدة خمسمائة خمسمائة، حتى الحقتهم بهم؟ قالا: بلى، قال] (٨) : اذكركما الله الستما تعلمان (انكما) (٩) اتيتماني فقلتما: إن كندة اكلة راس وإن ربيعة هم الراس وان الاشعث ابن قيس قد اكلهم (فنزعته) (١٠) واستعملتكما؟ قالا: بلى، قال: اللهم (اللهم) (١١) ، إن (كانوا كفروا) (١٢) معروفي وبدلوا نعمتي فلا (ترضهم) (١٣) عن إمام ولا ترض الإمام عنهم (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (فتان)، وفي [أ]: (فنان).
(٢) في [هـ]: (مني).
(٣) في [س]: (محدوج).
(٤) في [أ، ب]: (فأيقظا).
(٥) في [جـ]: (علمان)، وفي [أ]: (تعلماني).
(٦) في [س]: (فرائضكم).
(٧) في [س]: (طيبة).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [س]: (أبكما).
(١٠) في [جـ]: (فزعته)، وفي [س]: (ففزعته).
(١١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٢) في [ع]: (كانا كفرا).
(١٣) في [ب، جـ]: (رضهم).
(١٤) مجهول؛ لجهالة حنظلة بن قنان، أخرجه خليفة في التاريخ (١٧١)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٧.

حضرت حنظلہ بن قنان ابو محمد جو بنی عامر بن ذھل سے تھے ان سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ حضرت عثمان نے روشندان سے ہماری طرف جھانکا جبکہ وہ محصور تھے اور فرمایا کیا تم میں محدوج کے دو بیٹے ہں ن وہ وہاں نہ تھے سوئے ہوئے تھے ان کو جگایا گیا وہ دونوں آئے اور ان دونوں سے حضرت عثمان نے کہا میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم دونوں جانتے نہیں ہو کہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ کہ ربیعہ فاجر ہیں یا فرمایا تھا دھوکے باز ہیں اور میں ایک مہینے کی مسافت سے آنے والی قوم والا عطیہ نہیں کرسکتا ہوں ان کے ہجرت کا مقام تو ان کے خیمے کی رسی کے پاس ہے (یعنی یہ قریب سے ہجرت کرنے والے ہیں) پھر میں نے ایک صبح میں ان کے عطیہ میں پانچ پانچ سو زیادہ کیا یہاں تک کہ میں نے ان کو ان کے ساتھ ملا دیا ان دونوں نے کہا کیوں نہیں (ایسا ہوا) حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم یہ نہیں جانتے کہ تم میرے پاس آئے تھے اور تم دونوں نے کہا تھا کہ کندہ اور ربیعہ ان پر اشعث بن قیس غالب تھا میں نے ان کو ان سے چھڑوایا اور تم دونوں کو ان پر عامل مقرر کیا انہوں نے کہا کیوں نہیں ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا اے اللہ! اگر وہ میری نیکی کی ناشکری کریں اور نعمت کو بدل دیں تو اے اللہ تو ان کو کسی امام سے راضی نہ کر اور نہ امام کو ان سے راضی کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40460]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40460، ترقيم محمد عوامة 38821)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40460 in Urdu