🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38825 ترقیم الشثری: -- 40465
٤٠٤٦٥ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن عبد العزيز بن رفيع قال: لما سار علي إلى صفين استخلف ابا مسعود على الناس فخطبهم في يوم جمعة فراى فيهم قلة، فقال: ايها الناس اخرجوا فمن خرج فهو آمن، إنا والله [نعلم ان منكم (الكاره لهذا) (١) (الامر) (٢) و (المتثاقل) (٣) (عنه) (٤) فاخرجوا، فمن خرج فهو آمن، (إنا) (٥) ⦗٤١٣⦘ والله] (٦) ما (نعدها) (٧) عافية ان يلتقي هذان (الغاران) (٨) يتقي احدهما (صاحبه) (٩) ولكنها نعدها عافية ان يصلح الله امة محمد (١٠) ويجمع الفتها، الا اخبركم عن عثمان وما (نقم) (١١) الناس عليه، إنهم (لن) (١٢) يدعوه وذنبه حتى يكون الله هو يعذبه او يعفو عنه، ولم يدركوا الذي طلبوه (إذ) (١٣) حسدوه ما آتاه الله (إياه) (١٤) . فلما قدم علي قال له: انت (القائل) (١٥) ما بلغني عنك يا فروج؟ إنك شيخ قد ذهب عقلك، قال: لقد (سمتني) (١٦) امي باسم هو احسن من هذا (اذهب) (١٧) عقلي وقد وجبت لي الجنة من الله و (١٨) رسوله (١٩) ، (تعلمه) (٢٠) انت، وما بقي من عقلي فإنا كنا نتحدث: بان الآخر فالآخر شر ثم خرج. فلما كان بالسيلحين او بالقادسية خرج عليهم وظفراه يقطران، يرون انه قد تهيا للإحرام، فلما وضع رجله في الغرز واخذ بمؤخر واسطة ⦗٤١٤⦘ (الرحل) (٢١) قام إليه ناس من الناس فقالوا له: لو عهدت إلينا يا ابا مسعود. قال: (عليكم) (٢٢) بتقوى الله والجماعة، فإن الله لا يجمع امة محمد (٢٣) على ضلالة، قال: فاعادوا عليه فقال: عليكم بتقوى الله والجماعة، فإنما يستريح (بر او يستراح) (٢٤) من فاجر (٢٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (لكاره هذا)، وفي [أ، س]: (الكاره لهذا).
(٢) في [ط، هـ]: (الوجه).
(٣) في [أ، ب، س]: (المتناقل).
(٤) سقط من: [أ، ب، س].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٧) في [أ، ب]: (بعد)، وفي [هـ]: (نعد).
(٨) في [س]: (الفاران).
(٩) في [س]: (حاحبه).
(١٠) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(١١) في [أ، ب]: (تقم).
(١٢) في [س، جـ]: (لم).
(١٣) في [ب]: (إذا).
(١٤) في [ب]: (أتاه)، وفي [جـ]: (أيام).
(١٥) في [أ]: (القاتل)، وفي [ب]: (المقاتل).
(١٦) في [س]: (سمعتني).
(١٧) في [أ، ب، جـ، س]: (ذهب).
(١٨) في [أ، ب، جـ، س]: زيادة (من).
(١٩) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٢٠) في [س]: (لعله)، وفي [جـ]: (علمه).
(٢١) في [س]: (الرجل).
(٢٢) سقط من: [هـ].
(٢٣) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٢٤) في [أ، ب، جـ]: (بر ويستراح).
(٢٥) منقطع ضعيف؛ عبد العزيز بن رفيع لم يدرك عليًا، وليث ضعيف.

عبدالعزیز بن رفیع سے منقول ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے لیے روانہ ہوئے تو ابو مسعود کو لوگوں پر پیچھے نائب بنایا پس انہوں نے جمعہ کے دن خطبہ دیا تو انہوں نے لوگوں کی قلت محسوس کی پھر فرمایا اے لوگو! نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم اس بوجھل معاملے میں تمہاری پسندیدگی کو دیکھ رہے ہیں۔ تم نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم عافیت اسے شمار نہیں کرتے کہ دولشکروں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہو ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے بچتا پھرے بلکہ ہم عافیت اسے سمجھتے ہیں کہ اللہ امت محمدیہ کی اصلاح فرمادے اور اس کے مابین محبت و الفت قائم فرمادے۔ کیا میں تم کو حضرت عثمان کے بارے میں نہ بتلاؤں اور ان سے لوگ کیوں ناراض ہوئے میں تم کو نہ بتلاؤں؟ لوگوں نے حضرت عثمان اور ان کی خطا کو اللہ کے سپرد نہیں کیا کہ وہ اس کو عذاب دیتا یا معاف کرتا۔ اور وہ اس کو بھی نہ پاسکے جس کی انہیں طلب تھی کیونکہ انہوں نے ان سے اس پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان سے کہا کہ آپ نے کہی ہے وہ بات جو مجھے پہنچی ہے اے چوزے تمہاری عقل جاتی رہی ہے حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ میری ماں نے اس نام سے بہتر نام رکھا ہے۔ کیا میری عقل جاتی رہی حالانکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے جنت واجب کی کیا تم جانتے ہو؟ جو میری عقل سے باقی ہے اسی وجہ سے ہم باتیں کرتے تھے کہ ہر دوسرا شر ہے یہ کہہ کر وہ نکل گئے۔ جب ابو مسعود سیلحین یا قادسیہ میں لوگوں کے سامنے آئے تو ان کی زلفوں سے پانی ٹپک رہا تھا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ احرام کے لیے تیاری کرچکے ہیں اور انہوں نے جب رکاب میں پاؤں رکھا اور کجاوے کو پکڑا تو لوگ ان کے آس پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ تو ابو مسعود نے فرمایا کہ تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو بیشک اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ انہوں نے پھر نصیحت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے پھر فرمایا تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو! بیشک نیک صالح ہی اطمینان پاتا ہے یا یہ فرمایا کہ فاجر سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40465]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40465، ترقيم محمد عوامة 38825)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40465 in Urdu