مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38840 ترقیم الشثری: -- 40480
٤٠٤٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت ذكوان ابا صالح يحدث عن صهيب مولى العباس قال: ارسلني العباس إلى عثمان ادعوه، قال: فاتيته فإذا هو (يغدي) (١) الناس، فدعوته فاتاه فقال: افلح الوجه ابا الفضل، قال: ووجهك امير المؤمنين، قال: ما زدت ان اتاني رسولك وانا (اغدي) (٢) الناس ⦗٤٢١⦘ (فغديتهم) (٣) ثم اقبلت، فقال العباس: اذكرك الله في علي فإنه ابن عمك، واخوك في دينك وصاحبك مع رسول الله ﷺ وصهرك، وإنه قد بلغني انك تريد ان (تقوم) (٤) بعلي واصحابه فاعفني من ذلك يا امير المؤمنين، فقال عثمان: انا (اول ما) (٥) (اجبتك) (٦) ان قد شفعتك ان عليا لو شاء ما كان احد دونه، ولكنه ابى إلا رايه، وبعث إلى علي فقال له: اذكرك الله في ابن عمك وابن عمتك واخيك في دينك وصاحبك مع رسول الله ﷺ وولي بيعتك، فقال: والله لو امرني ان اخرج من داري لخرجت، فاما ان اداهن ان لا يقام كتاب الله فلم اكن لافعل (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (تعدي).
(٢) في [جـ، س]: (أغذي).
(٣) في [ب، س]: (فغذيتهم).
(٤) في [س]: (يقوم).
(٥) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (أولى من).
(٦) في [س]: (أحبك)، وفي [هـ]: (أخيك).
(٧) مجهول؛ لجهالة صهيب مولى العباس، والخبر أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٤/ ٣١٦، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٧/ ٢٠٨، والباجي في التعديل والتخريج ٣/ ١٠٠٧، وابن عساكر ٣٩/ ٢٦٣، وبعضه يعقوب في المعرفة ١/ ٢٨٠، والمزي ١٣/ ٢٤٠.
صہیب جو کہ عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے عباس نے مجھے حضرت عثمان کے پاس بھیجا کہ میں ان کو بلا کر لاؤں۔ کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو وہ لوگوں کو ناشتہ کروا رہے تھے میں نے ان کو بلایا پس و ہ آگئے اور فرمایا اے ابو الفضل آپکا چہرہ کامیاب رہے۔ حضرت عباس نے بھی فرمایا اے امیر المؤمنین آپ کا چہرہ بھی فلاح کو پائے پھر عرض کیا کہ آپ کا پیغام سنتے ہی چلا آیا صرف کھانا کھلایا ہے لوگوں کو۔ عباس نے فرمایا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیشک وہ آپ کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ کے ماموں کے بیٹے ہیں اور آپ کے دینی بھائی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کے ہم زلف ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے مد مقابل کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اے امیرالمؤمنین! اس کی معافی آپ مجھے دیدیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ کی اس بات کو قبول کیا اور آپ کی سفارش کو قبو ل کیا بیشک اگر علی رضی اللہ عنہ چاہے تو ان کے علاوہ کوئی نہ ہو مگر انہوں نے انکار کردیا سوائے رائے دینے کے پھر عباس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ میں تم کو تمہارے چچا کے بیٹے کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں جو تمہارا پھوپھی کا بیٹا ہے اور دینی بھائی ہے اور آپ کے ساتھ صحابیٔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور آپ نے ان سے بیعت بھی کی ہوئی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ مجھے گھر سے نکلنے کا حکم دیتے تو میں ضرور نکلتارہی بات ہدایت کی کہ اللہ کی کتاب کو قائم نہ کیا جائے تو میں ایسا نہیں کرسکتا۔ محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کو میں نے بیشمار دفعہ سنا ہے اور ان پر کئی دفعہ پیش کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40480]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40480، ترقيم محمد عوامة 38840)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40480 in Urdu