مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38864 ترقیم الشثری: -- 40510
٤٠٥١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) ابو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم عن علقمة قال: قلت للاشتر: لقد كنت كارها ليوم الدار (فكيف رجعت عن رايك؟ فقال: اجل، والله إن كنت لكارها ليوم الدار) (٢) ، ولكن جئت بام حبيبة بنت ابي سفيان لادخلها الدار، واردت ان اخرج عثمان في هودج، فابوا ان يدعوني وقالوا: ما لنا ولك يا اشتر، (ولكني) (٣) رايت طلحة والزبير والقوم بايعوا عليا طائعين غير مكرهين، ثم نكثوا عليه، قلت: (فابن) (٤) الزبير (القائل) (٥) : اقتلوني ومالكا؟ قال: لا، والله، ولا رفعت السيف عن (ابن) (٦) الزبير وانا ارى ان (فيه) (٧) شيئا من الروح، لاني كنت عليه (بحنق) (٨) ؛ لانه استخف ام المؤمنين حتى اخرجها، فلما لقيته ما رضيت له بقوة ساعدي حتى قمت في الركابين قائما فضربته على راسه، فرايت اني (قد) (٩) قتلته، ولكن القائل اقتلوني ومالكا: عبد الرحمن بن عتاب بن اسيد لما لقيته (اعتنقته) (١٠) فوقعت انا وهو عن فرسينا، فجعل (ينادي) (١١) : اقتلوني ومالكا، والناس يمرون لا يدرون من يعني، و (لو) (١٢) يقل: ⦗٤٤٣⦘ الاشتر (١٣) ، (لقتلت) (١٤) (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (حدثني).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ع]: (ولكن).
(٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (فأين).
(٥) في [جـ]: تكرر.
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (فيها).
(٨) في [أ، ب]: (بحتف).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [س]: (اعتقنه).
(١١) في [ع]: (يقول).
(١٢) في [أ، ط، هـ]: (لم).
(١٣) في [هـ]: زيادة (إلا).
(١٤) في (س): (نقلت).
(١٥) صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٣٨٧).
علقمہ سے منقول ہے کہتے ہیں میں نے مشتہر سے کہا آپ تو یوم دار (حضرت کے گھر کے محاصرے کا دن) کو ناپسند کرتے تھے پھر آپ نے کیسے اپنی رائے سے رجوع کیا؟ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں یوم دار کو ناپسند کرتا تھا اور میں ام حبیبہ بنت ابو سفیان کو لایا تا کہ میں ان کو حضرت عثمان کے گھر لے جاؤں اور حضرت عثمان کو ھودج میں نکال لوں۔ مگر انہوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ہمارا اشتر سے کیا واسطہ۔ لیکن میں نے طلحہ زبیر اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بغیر کسی اکراہ کے بیعت کی اور پھر اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ابن زبیر یہ کہنے والے تھے کہ ”مجھے اور مالک کو قتل کردو“ تو اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں نے ابن زبیر سے تلوار نہیں ہٹائی تھی اس حال میں کہ اندر روح کو دیکھ رہا تھا (یعنی زندگی کی رمق دیکھتا رہا) کیونکہ مجھے ان پر غصہ تھا اس بات پر کہ انہوں نے ام المومنین کو وقعت نہ دی تھی یہاں تک کہ میں ام المومنین کو واپس لے گیا۔ پس جب میرا ان سے لڑائی میں سامنا ہوا تو میں نے اپنے بازؤں کی قوت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میں نے دونوں رکابوں میں کھڑے ہو کر قوت کے ساتھ ان کے سر میں تلوار ماری پس میں نے اس کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ لیکن (مجھے اور مالک کو قتل کردو) کہنے والے، عبدالرحمن بن عتاب سے جب ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر تلوار زنی کی حتی کہ میں اور وہ اپنے گھوڑوں سے گرگئے پس اس نے پکارنا شروع کیا کہ مجھے اور مالک کو قتل کردو اور لوگ گزر رہے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ مالک سے اس کی مراد کیا ہے کیونکہ اس نے اشتر نہیں کہا تھا اگر وہ اشتر کہتا تو قتل کردیا جاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40510]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40510، ترقيم محمد عوامة 38864)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40510 in Urdu