🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38889 ترقیم الشثری: -- 40535
٤٠٥٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) مالك بن إسماعيل قال: حدثنا عبد الرحمن بن حميد الرؤاسي قال: (حدثنا) (٢) عمرو بن قيس عن المنهال بن عمرو قال عبد الرحمن: اظنه عن قيس بن (السكن) (٣) ، قال: قال علي على منبره: إني انا فقات عين الفتنة، ولو لم اكن فيكم ما قوتل فلان وفلان (وفلان) (٤) واهل النهر، وايم الله لولا ان تتكلوا فتدعوا العمل لحدثتكم (بما سبق لكم) (٥) على لسان نبيكم (٦) ، لمن قاتلهم مبصرا لضلالاتهم عارفا بالذي نحن عليه. قال: ثم قال: سلوني، (فقال: الا تسالوني) (٧) فإنكم لا تسالوني عن شيء فيما بينكم وبين الساعة ولا عن فئة تهدي مائة و (٨) تضل مائة (إلا) (٩) حدثتكم (بسائقها) (١٠) . قال: فقام رجل فقال: يا امير المؤمنين حدثنا عن البلاء، فقال امير المؤمنين: إذا سال سائل فليعقل، وإذا سئل مسؤول (فليتثبت) (١١) ، إن من ورائكم (امورا) (١٢) ⦗٤٥٦⦘ (١٣) جللا (وبلاء) (١٤) (مبلحا) (١٥) مكلحا، والذي (فلق الحبة) (١٦) وبرا النسمة! لو قد فقدتموني ونزلت (جراهنة) (١٧) الامور وحقائق البلاء (لفشل) (١٨) كثير من السائلين، ولاطرق كثير من المسؤولين، وذلك (إذا فصلت) (١٩) (حربكم) (٢٠) وكشفت عن ساق لها وصارت الدنيا بلاء على اهلها حتى يفتح الله (لبقية) (٢١) الابرار. قال: (فقام) (٢٢) رجل فقال: يا امير المؤمنين حدثنا عن الفتنة، فقال: إن الفتنة إذا اقبلت شبهت وإذا ادبرت (اسفرت) (٢٣) ، وإنما (الفتن) (٢٤) (تحوم) (٢٥) (كحوم) (٢٦) الرياح، (يصبن) (٢٧) بلدا ويخطئن آخر، (فانصروا) (٢٨) اقواما كانوا اصحاب رايات يوم بدر، ويوم حنين، تنصروا (وتؤجروا) (٢٩) . ⦗٤٥٧⦘ الا إن اخوف الفتنة عندي عليكم فتنة عمياء مظلمة خصت فتنتها، وعمت (بليتها) (٣٠) ، اصاب البلاء من ابصر فيها، واخطا البلاء من عمي (عنها) (٣١) ، يظهر اهل باطلها على اهل حقها حتى تملا الارض عدوانا وظلما. وإن اول من يكسر (غمدها) (٣٢) ويضع جبروتها وينزع اوتادها الله رب العالمين، الا وإنكم ستجدون ارباب سوء لكم من بعدي كالناب (الضروس) (٣٣) تعض (بفيها) (٣٤) ، وتركض برجلها، وتخبط بيدها، وتمنع درها، الا إنه لا يزال بلاؤهم بكم حتى لا يبقى في مصر لكم إلا نافع لهم او غير ضار، وحتى لا يكون نصرة احدكم منهم إلا كنصرة العبد من سيده، وايم الله لو فرقوكم تحت كل كوكب لجمعكم الله (لسر) (٣٥) يوم لهم. قال: فقام رجل فقال: هل بعد ذلكم جماعة (يا امير المؤمنين؟) (٣٦) قال: (لا، إنها) (٣٧) جماعة شتى غير ان (اعطياتكم) (٣٨) وحجكم واسفاركم واحد والقلوب مختلفة هكذا -ثم شبك بين اصابعه- قال: مم ذاك يا امير المؤمنين؟ قال: يقتل هذا هذا، فتنة (فظيعة) (٣٩) جاهلية، ليس فيها إمام (هدى) (٤٠) (ولا ⦗٤٥٨⦘ علم) (٤١) (يرى) (٤٢) ، نحن اهل البيت منها نجاة ولسنا بدعاة، قال: وما بعد ذلك يا امير المؤمنين؟ قال: يفرج الله البلاء برجل (منا) (٤٣) اهل البيت تفريج الاديم (٤٤) ، ياتي ابن خبره إلا ما يسومهم الخسف، ويسقيهم بكاس (مضرة) (٤٥) ، (ودت) (٤٦) قريش بالدنيا وما فيها لو يقدرون على مقام (جزر جزور) (٤٧) (لاقبل) (٤٨) منهم بعض الذي اعرض عليهم اليوم؛ فيردونه (ويابى) (٤٩) إلا قتلا (٥٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (حدثني).
(٣) في [جـ، س، ع]: (سكن)، وفي [أ]: (سكلر)، وفي [ب]: (سكر).
(٤) سقط من: [جـ، ع].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [جـ، ع]: زيادة (لا).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [أ، ب]: (ولا سابعها)، وفي [س]: (وسايقها)، وفي [هـ]: (ولا شايعها).
(١١) في [أ، ب]: (فليثبت).
(١٢) في [أ، ب، ع]: (أمورٌ).
(١٣) في [أ، ب]: زيادة (أنتم)، وفي [س]: (تتم)، وفي [ب، ع]: (تم)، وفي ضعفاء العقيلي ٤/ ١٣ وميزان الاعتدال والمجالسة ١/ ١٥٦: (متماحلة)، أي: متطاولة.
(١٤) في [أ، ب]: (بللًا).
(١٥) في [أ، ب، ع]: (ملحا)، والمبلح: المعيب، والمكلح: الشديد.
(١٦) في [أ]: (خلق الجنة).
(١٧) في [أ، جـ]: (حراهية)، وفي [ب]: (حراسة)، وفي [ع]: (جراهية)، وفي [س]: (هراهنة).
(١٨) في [س]: (نقش).
(١٩) في [جـ، س]: (إذا اتصلت).
(٢٠) في [أ، ب]: (حرورتكم).
(٢١) في [ع]: (لقيه).
(٢٢) في [ب]: (فقال).
(٢٣) في [أ، ب]: (سفرت).
(٢٤) في [ع]: (لقين)، وفي [جـ]: (فتنة).
(٢٥) في [هـ]: (نحوم)، وفي [س]: (تخوم)، وفي [جـ]: (حوم)، والمراد أنها تدور كالرياح.
(٢٦) في [هـ]: (كنحوم)، وفي [ب]: (كنجوم).
(٢٧) في [س]: (وليصيبن)، وفى [أ]: (يصيبن).
(٢٨) في [ب]: (ما نصروا).
(٢٩) في [س]: (توجدو)، وفى [أ]: (تومرو).
(٣٠) في [س]: (يلتها)، وفي [ب]: (بيتها).
(٣١) في [ع]: (فيها).
(٣٢) في [أ، ط، هـ]: (عمدها).
(٣٣) أي: الناقة سيئة الخلق، وفي [ب]: (المطروس).
(٣٤) في [أ]: (بنيبها).
(٣٥) في [ط، هـ]: (أيسر).
(٣٦) سقط من: [ع].
(٣٧) في [هـ]: (لأنها)، وفي [أ]: (لا، بها).
(٣٨) في [ع]: (أعطياكم).
(٣٩) في [ع]: (قطيعًا)، وسقط من: [ب، جـ، س].
(٤٠) في [أ، ب]: (هذا).
(٤١) في [ط، هـ]: (إلا علم).
(٤٢) في [أ، ط، هـ]: (نرى).
(٤٣) في [أ، ط، هـ]: (من).
(٤٤) أي: سلخ الجلد.
(٤٥) في [أ، هـ]: (مصيرة)، وفي [ع]: (مصبرة).
(٤٦) في [ب]: (ورثت).
(٤٧) أي: ذبح ناقة، وفي [أ، ب]: (حر محدود)، وفي [هـ]: (جزر وجزور).
(٤٨) كذا في النسخ، ولعلها: (ليقبل).
(٤٩) في [أ، ب]: (يأتي)، وفي [ع]: (يأبا).
(٥٠) صحيح؛ أخرجه النسائي (٨٥٧٤) وفي الخصائص (١٨٩)، ونعيم (٥٢٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٦٨ و ٤/ ١٨٦، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٤٩٤) من حديث المنهال عن زر بن حبيش عن علي.

عبدالرحمن سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ قیس بن سکن سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا کہ میں نے فتنے پر غلبہ پالیا اگر میں تم میں نہ ہوتا تو فلاں، فلاں قتل نہ کیے جاتے اور اللہ کی قسم اگر تم بھروسا کر کے عمل کو نہ چھوڑ بیٹھتے تو میں تمہیں بتاتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے بارے میں کیا کیا خوشخبریاں دی ہیں بوجہ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنے کے جو اپنی گمراہی کو دیکھتے ہوئے یہ بھی جانتے تھے ہم ہدایت پر ہیں پھر فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو پھر فرمایا کہ خبردار مجھ سے سوال کرو کیونکہ مجھ سے جو بھی سوال کرو گے قیامت اور جو تمہارے درمیان اس سے متعلق ہو یا اس لشکر کے متعلق جس کے سو آدمی ہدایت پا گئے اور سو آدمی گمراہ ہوگئے میں تم کو اس تفصیلات سے آگاہ کروں گا۔ پس ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں آزمائش کے بارے میں بتائیے۔ امیر المومنین نے فرمایا جب سائل سوال کرے تو اسے چاہیے سمجھ سے کرے اور جب مسؤل سے سوال کیا جائے تو اسے ثابت قدم رہنا چاہیے۔ تمہارے بعد بڑے بڑے امور پیش آنے والے ہیں اور ایسے ایسے فتنے برپا ہونے والے ہیں جو انسان کو عیب دار بنادیں گے اور انسان کا رنگ پھکاش کر ڈالیں گے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے بیج کو پھاڑا اور ہواؤں کو چلایا! اگر تم مجھے گم کردیتے اور پھر ناپسندیدہ امور اترتے اور بڑی آزمائش اترتی تو بہت سارے سوال کرنے والے پھسل جاتے اور بہت سے مسؤل گردن جھکائے کھڑے ہوتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب تمہاری جنگ برپا ہوگئی اور لڑائی خوب بھڑک اٹھی۔ اور دنیا والوں پر آزمائش بن گئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے باقی ماندہ نیک بندوں کے لیے اسے فتح کردیا۔ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں فتنے کے بارے میں کچھ خبریں بتلائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب فتنہ آتا ہے تو مشتبہ ہو کر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو واضح و بیّن ہو کر لوٹتا ہے بیشک فتنے ہواؤں کی طرح گردش میں ہیں ایک شہر کو گھیرتے ہں ت تو دوسرے کو چھوڑدیتے ہیں۔ پس تم ایسے لوگوں کی مدد کرو جو بدرو حنین کے دن جھنڈے تھامنے والے تھے تا کہ تمہاری مدد کی جائے اور تم کو اجر دیا جائے۔ خبردار غور سے سنو! بیشک سب سے زیادہ خوفناک فتنہ میرے نزدیک وہ فتنہ ہے جو اندھا اور تاریک ہوگا۔ اس کا ہنگامہ خاص ہوگا مگر اس کی آزمائش مصیبت عام ہوگی۔ وہ فتنہ اس تک پہنچے گا جو اس کو دیکھے گا اور اس سے چوک جائے گا جو اس سے آنکھیں بند کرے گا اس فتنے میں جو باطل پر ہیں وہ اہل حق پر غالب آجائیں گے یہاں تک کہ زمین ظلم وستم سے بھر جائے گی اور پھر سب سے پہلے اس فتنے کی میان توڑنے والا، اور اس فتنے کی طاقت کو فرو کرنے والا اور اس فتنے کی میخیں اکھاڑنے والا اللہ ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ سنو عنقریب تمہارا واسطہ میرے بعد برے لوگوں سے ہوگا جو بپھری ہوئی اونٹنی کی مانند ہوں گے جو اپنے منہ سے کاٹتی ہے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارتی ہے اور آگے والے پاؤں سے بھی مارتی ہے اور اپنا دودھ نکالنے نہیں دیتی، سنو یہ فتنہ تم پر جاری رہے گا یہاں تک کہ تمہارے شہر میں تمہارے لیے کوئی حامی نہ ہوگا سوائے اہل باطل کو نفع پہنچانے والے یا ان کے لیے بےضرر۔ یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی مدد ان کی طرف سے نہ کی جائے گی مگر جتنی مدد آقا اپنے غلام کی کرتا ہے (یعنی بہت تھوڑی مدد) اللہ کی قسم اگر وہ تمہیں ہر ستارے کے نیچے جمع کردیں تو اللہ تمہیں ایک ایسے دن میں جمع کرے گا جس میں ان کے لیے کچھ حصہ نہیں۔ پھر ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا اے امیر المومنین! کیا اس کے بعد بھی کوئی جماعت ہوگی؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر مختلف جماعتیں ہوں گی مگر تمہارے عطیات تمہارے حج اور تمہارے سفر ایک ہوں گے اور قول مختلف ہوں گے اس طرح، یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملایا ایک آدمی نے سوال کیا یہ کس طرح ہوگا اے امیر المومنین؟ آپ نے فرمایا لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں گے یہ بڑا ہولناک اور جہالت والا فتنہ ہوگا اس فتنے میں کوئی امام ہدیٰ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی جھنڈا ہوگا جس کو دیکھا جاسکے ہم اہل بیت اس سے نجات دہندہ ہوں گے اور ہم اس کے محرک نہیں ہوں گے، پھر اس نے کہا اے امیر المومنین اس کے بعد کیا ہوگا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ؟ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل بیت میں سے ایک آدمی کے ذریعے اس فتنے کو ایسے الگ کریں گے جیسے گوشت سے کھال علیٰحدہ کی جاتی ہے پھر وہ انہیں اذیت کا جام چکھائے گا۔ اس وقت قریش دنیا کی محبت کا شکار ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40535]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40535، ترقيم محمد عوامة 38889)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40535 in Urdu