🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39078 ترقیم الشثری: -- 40734
٤٠٧٣٤ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن ابي مجلز قال: بينما عبد الله بن خباب (في يد) (١) الخوارج إذ اتوا على نخل، فتناول رجل منهم تمرة فاقبل عليه ⦗٥٦٠⦘ اصحابه فقالوا له: اخذت تمرة من تمر اهل العهد، واتوا على خنزير (فنفحه) (٢) (رجل) (٣) منهم بالسيف، فاقبل عليه اصحابه فقالوا له: قتلت خنزيرا من خنازير اهل العهد، قال: فقال عبد الله: الا اخبركم (من) (٤) هو اعظم عليكم حقا من هذا؟ قالوا: من؟ قال: انا، ما تركت صلاة ولا تركت كذا و (لا) (٥) تركت كذا، قال: فقتلوه، قال: فلما جاءهم علي قال: اقيدونا بعبد الله بن خباب، قالوا: كيف نقيدك (به) (٦) وكلنا قد شرك في دمه؟ فاستحل قتالهم (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عند).
(٢) سقط من: [ع]، وفي [هـ]: (فنفخه).
(٣) في [ع]: (لرجل).
(٤) في [ع]: (بمن).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) منقطع؛ أبو مجلز لا يروي عن علي، أخرجه الدارقطني ٣/ ١٣١، وأبو عبيد في الأموال (٤٧٥)، والبيهقي ٨/ ١٨٤، وأخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٤٤٤٠)، وفيه: (عن أبي مجلز أراه عن قيس بن عباد)، وصحح الدارقطني في العلل ٤/ ١٠١ رواية الإرسال.

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن خباب خوارج کے قبضے میں تھے۔ اس وقت ان کا ایک آدمی کھجور کے ایک درخت کے پاس سے گزرا اور ایک کھجور اٹھا لی۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تو نے ایک ذمی کی کھجور اٹھا لی ہے! پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے، ایک آدمی نے اسے تلوار ماری تو اس کے ساتھیوں نے کہا کہ تو نے ایک ذمی کے خنزیر کو مار ڈالا! اس پر حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دونوں سے زیادہ حرمت والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا کہ وہ کون ہے؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ وہ میں ہوں۔ میں نے نماز نہیں چھوڑی، میں فلاں عمل نہیں چھوڑا اور فلاں عمل بھی نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود بھی انہوں نے حضرت عبداللہ بن خباب کو شہید کردیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ حضرت عبد اللہ کے قاتل ہمارے حوالے کردو، تو انہوں نے کہا کہ ہم ان کے قاتل آپ کے حوالے کیسے کردیں حالانکہ ہم سب ان کے خون میں شریک ہیں۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کو حلال قرار دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40734]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40734، ترقيم محمد عوامة 39078)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40734 in Urdu