مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
ترقیم عوامۃ: 39088 ترقیم الشثری: -- 40744
٤٠٧٤٤ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا (مجالد) (١) بن سعيد عن عمير بن (٢) (زوذى) (٣) ابي (كثير) (٤) قال: خطبنا علي يوما، فقام الخوارج فقطعوا عليه كلامه، قال: فنزل فدخل ودخلنا معه، فقال: الا اني إنما اكلت يوم اكل الثور الابيض، ثم قال: مثلي مثل (ثلاثة) (٥) اثوار (واسد) (٦) اجتمعن في اجمة: ابيض واحمر واسود، فكان إذا اراد شيئا منهن اجتمعن فامتنعن منه. فقال للاحمر والاسود: إنه لا يفضحنا في اجمتنا هذه إلا مكان هذا ⦗٥٦٨⦘ الابيض، فخليا (بيني وبينه) (٧) حتى آكله، ثم اخلو انا وانتما في هذه الاجمة، فلونكما على لوني ولوني على لونكما، قال: ففعلا، قال: فوثب عليه فلم (يلبثه) (٨) ان قتله. قال: فكان إذا اراد احدهما اجتمعا، فامتنعا منه، (فقال) (٩) للاحمر: يا احمر، إنه لا يشهرنا في اجمتنا هذه إلا مكان هذا الاسود، فخل بيني وبينه حتى آكله، ثم اخلو انا وانت، فلوني على لونك ولونك على لوني، قال: فامسك عنه فوثب عليه فلم يلبثه ان قتله، ثم لبث ما شاء الله. ثم قال للاحمر: يا احمر إني آكلك، قال: تاكلني، قال: نعم، قال: اما لا فدعني حتى اصوت ثلاثة اصوات، ثم شانك بي قال: فقال: الا إني إنما اكلت يوم اكل الثور الابيض، قال: ثم قال علي: الا وإني إنما (وهنت) (١٠) يوم قتل عثمان (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مخالد).
(٢) في [جـ]: زيادة (ابن).
(٣) في [أ، ب]: (زدزي).
(٤) في [أ، هـ]: (كبير).
(٥) في [أ]: (أثلاثة)، وفي [ب]: (الثلاثة).
(٦) في [أ، ب]: (وأشد).
(٧) في [ع]: (بينه وبيني).
(٨) في [ع]: (يلبث).
(٩) في [هـ]: (وقال).
(١٠) في [أ، ب، ع]: (وهبت)، وفي [هـ]: (رهبت).
(١١) مجهول؛ لجهالة عمير، وأخرجه ابن حبان في الأمثال في الحديث النبوي (١٦٧)، وابن شبه (٢١٧٧)، وابن الجوزي في المنتظم ٥/ ٦١.
حضرت عمیر بن زوذی ابو کثیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا، اس خطبہ میں خوارج کھڑے ہوئے اور ان کی بات کو کاٹ دیا۔ وہ نیچے اترے اور حجرے میں تشریف لے گئے، ہم بھی ان کے ساتھ اندر چلے گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس دن کھایا گیا جس دن سفید بیل کھایا گیا۔ پھر فرمایا کہ میری مثال ان تین بیلوں اور شیر کی سی ہے جو ایک کچھار میں جمع ہوگئے، ایک بیل سفید تھا، ایک سرخ اور ایک کالا، جب بھی شیر ان بیلوں کو کھانے کی کوشش کرتا وہ تینوں جمع ہوجاتے اور شیر کا مقابلہ کرتے اور شیر کو باز رکھتے۔ ایک دن شیر نے سرخ اور کالے بیل سے کہا کہ سفید بیل کا رنگ اس کچھار میں ہماری ذلت کا سبب ہے، تم دونوں ایسا کرو کہ مجھے وہ بیل کھا لینے دو، پھر ہم تینوں آرام سے اس کچھار میں رہیں گے، میرا اور تمہارا رنگ بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ وہ دونوں بیل اس کے جھانسے میں آگئے۔ اس بات کو منظور کرلیا اور شیر نے فورا حملہ کرکے سفید بیل کا کام تمام کردیا۔ (٢) پھر اس کے بعد جب کبھی وہ ان دونوں بیلوں میں سے کسی ایک کو مارنا چاہتا تو وہ دونوں جمع ہوجاتے اور اسے باز رکھتے۔ پس ایک دن شیر نے سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل! اس جگہ کالے کے ہونے کی وجہ سے ہماری عزت خراب ہورہی ہے۔ تم مجھے اجازت دو کہ میں اسے کھا لوں، پھر تم اور میں یہاں اکیلے رہیں گے، میرا رنگ تمہارے جیسا ہے اور تمہارا رنگ میرے جیسا ہے۔ پس سرخ بیل نے اسے اجازت دے دی اور اس نے کالے بیل کا قصہ تمام کردیا۔ (٣) پھر وہ کچھ دیر تک رکا رہا اور پھر سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل! میں تجھے کھاؤں گا۔ اس نے کہا کہ کیا تو مجھے کھائے گا! اس نے کہا ہاں میں تجھے کھاؤں گا۔ بیل نے کہا کہ اگر تو نے مجھے کھانا ہی ہے تو مجھے تین آوازیں نکالنے کی اجازت دے دے۔ پھر تم جو چاہو کرلینا۔ پھر بیل نے کہا کہ میں تو اسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا۔ (٤) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاد رکھو جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا میں اسی دن کمزور ہوگیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40744، ترقيم محمد عوامة 39088)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40744 in Urdu