🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. (في سجود القرآن وما يقرأ فيه)
قرآن مجید کے سجدوں میں کیا پڑھا جائے گا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4409 ترقیم الشثری: -- 4438
٤٤٣٨ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن عطاء بن السائب قال: دخلت المسجد فإذا انا بشيخين يقرا احدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا احدهما قيس بن سكن الاسدي والآخر يقرا عليه سورة مريم فلما بلغ السجدة قال له قيس: دعها فإنا نكره ان (يرانا) (٢) اهل المسجد فتركها وقرا ما بعدها ثم قال قيس: والله ما صرفنا عنها إلا الشيطان اقراها فقراها فسجدنا فلما رفعنا رؤوسنا قال له قيس: تدري ما كان رسول الله ﷺ يقول إذا سجد؟ قال: نعم كان يقول:"سجد وجهي لمن خلقه وشق سمعه وبصره"، قال: صدقت وبلغني ان داود ﵇ (٣) كان يقول: سجد وجهي متعفرا في التراب لخالقي وحق له ثم قال: سبحان الله ما ⦗٤٥٩⦘ اشبه كلام الانبياء بعضهم (ببعض) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (أبو).
(٢) في [هـ]: (يرونا).
(٣) في [ب، جـ، ك]: سقط ﵇.
(٤) في [هـ]: (بعضًا).
(٥) مرسل ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه.

حدثنا ابن فضيل ، عن عطاء بن السائب ، قال:" دخلت المسجد فإذا انا بشيخين يقرا احدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا احدهما قيس بن سكن الاسدي والآخر يقرا عليه سورة مريم فلما بلغ السجدة، قال له قيس: دعها فإنا نكره ان يرانا اهل المسجد فتركها وقرا ما بعدها ثم قال قيس: والله ما صرفنا عنها إلا الشيطان اقراها، فقراها فسجدنا فلما رفعنا رءوسنا، قال له قيس: تدري ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا سجد، قال: نعم كان يقول: " سجد وجهي لمن خلقه وشق سمعه وبصره"، قال صدقت: وبلغني ان داود كان يقول: سجد وجهي متعفرا في التراب لخالقي وحق له ثم قال: سبحان الله، ما اشبه كلام الانبياء بعضهم ببعض
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوا تو دو بوڑھے آدمی بیٹھے تھے، جن میں سے ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھا رہا تھا۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک حضرت قیس بن سکن اسدی تھے، دوسرے آدمی ان سے سورة مریم پڑھ رہے تھے۔ جب وہ آیت سجدہ پر پہنچے تو قیس بن سکن نے کہا کہ اسے چھوڑ دو، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مسجد والے ہمیں دیکھیں۔ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بعد والا حصہ پڑھا۔ پھر حضرت قیس نے فرمایا کہ خدا کی قسم! اس آیت کے چھوڑنے پر ہمیں شیطان نے ابھارا تھا۔ اسے پڑھو۔ چناچہ انہوں نے پڑھا اور ہم نے سجدہ کیا۔ جب ہم نے اپنے سر اٹھائے تو حضرت قیس نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ تلاوت کرتے تھے تو کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں، رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہتے تھے: میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے سماعت وبصار ت سے سرفراز فرمایا۔ حضر ت قیس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضر ت داؤد اپنے سجدوں میں یہ کہا کرتے تھے: میرے چہرے نے مٹی میں لپٹتے ہوئے میرے خالق کو سجدہ کیا اور اس کا حق کے لئے وہ اس ذات کو سجدہ کرے۔ پھر فرمایا کہ سبحان اللہ! انبیاء کا کلام ایک دوسرے کے کتنا مشابہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4438، ترقيم محمد عوامة 4409)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 4438 in Urdu