مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
31. (في سجود القرآن وما يقرأ فيه)
قرآن مجید کے سجدوں میں کیا پڑھا جائے گا؟
ترقیم عوامۃ: 4405 ترقیم الشثری: -- 4434
٤٤٣٤ - حدثنا ابو بكر قال نا هشيم قال (اخبرنا) (١) خالد عن ابي العالية عن عائشة ان رسول الله ﷺ كان يقول في سجود القرآن:"سجد وجهي للذي خلقه (وصوره) (٢) وشق سمعه وبصره (بحوله وقوته) (٣) " (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أنا).
(٢) سقط في: [جـ، ك، د] (وصوره).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) منقطع؛ خالد لم يرو هذا الخبر عن أبي العالية مباشرة، أخرجه أحمد (٢٤٢٢) وأبو داود (١٤١٤) والترمذي (٥٨٠) والنسائي (٢/ ٢٢٢) والحاكم (١/ ٢٢٢) والبيهقي (٢/ ٣٥٢) والبغوي (٧٧٠) وإسحاق (١٦٧٩) وأبو الشيخ في طبقات أصبهان (٦٧١) والدارقطني (١/ ٤٠٦).
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم ، قال: اخبرنا خالد ، عن ابي العالية ، عن عائشة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في سجود القرآن:" سجد وجهي للذي خلقه وصوره , وشق سمعه وبصره بحوله وقوته"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے سجدوں میں یہ پڑھا کرتے تھے: میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعہ اسے پیدا کیا، اسے صورت بخشی اور اسے سماعت و بصارت سے سرفراز فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4434، ترقيم محمد عوامة 4405)
ترقیم عوامۃ: 4406 ترقیم الشثری: -- 4435
٤٤٣٥ - حدثنا هشيم قال (اخبرنا) (١) مغيرة عن زياد (بن) (٢) الحصين عن ابن عمر انه كان يقول في سجوده: اللهم لك سجد سوادي وبك آمن فؤادي اللهم ⦗٤٥٨⦘ ارزقني علما ينفعني وعملا يرفعني (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أنا).
(٢) في [أ، ب]: (عن).
(٣) صحيح.
حدثنا حدثنا هشيم، قال: اخبرنا مغيرة، عن زياد بن الحصين، عن ابن عمر ، انه كان يقول في سجوده:" اللهم لك سجد سوادي وبك آمن فؤادي اللهم ارزقني علما ينفعني وعملا يرفعني"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سجود تلاوت میں یہ کہا کرتے تھے: اے اللہ! میرے چہرے نے تیرے لئے سجدہ کیا، میرا دل تجھ پر ایمان لایا، اے اللہ! مجھے ایسا علم عطا فرما جو فائدہ دینے والا ہو اور مجھے ایسا عمل عطا فرما جو میرے درجات کو بلند کرنے والا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4435]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4435، ترقيم محمد عوامة 4406)
ترقیم عوامۃ: 4407 ترقیم الشثری: -- 4436
٤٤٣٦ - حدثنا ابن علية عن خالد عن رجل عن ابي العالية عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول في سجود القرآن بالليل في السجدة مرارا:"سجد وجهي لمن خلقه وشق سمعه وبصره بحوله (وقوته) (١) " (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د]: فراغ.
(٢) مجهول، أخرجه أحمد (٢٥٨٢١)، وأبو داود (١٤١٤)، والبيهقي (٢/ ٣٢٥)، وسبق برقم [٤٤٣٤].
حدثنا ابن علية ، عن خالد ، عن رجل ، عن ابي العالية ، عن عائشة ، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في سجود القرآن بالليل في السجدة مرارا:" سجد وجهي لمن خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے سجدوں میں یہ پڑھا کرتے تھے: میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعے اسے پیدا کیا اور اسے سماعت و بصارت سے سرفراز فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4436]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4436، ترقيم محمد عوامة 4407)
ترقیم عوامۃ: 4408 ترقیم الشثری: -- 4437
٤٤٣٧ - حدثنا ابن عليه عن سعيد بن ابي عروبة عن قتادة انه كان يقول إذا قرا السجدة: سبحان، ربنا إن كان وعد ربنا لمفعولا سبحان الله وبحمده (سبحان (١) الله وبحمده) ثلاثا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
حدثنا ابن علية، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة انه كان يقول إذا قرا السجدة: سبحان ربنا إن كان وعد ربنا لمفعولا سورة الإسراء آية 108 سبحان الله وبحمده , سبحان الله وبحمده ثلاثا"
حضرت سعید بن ابی عروبہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ جب یہ آیت پڑھتے { سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً } تو سجدہ کرتے اور اس سجدے میں تین مرتبہ یہ کلمات کہتے: پاک ہے اللہ اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4437]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4437، ترقيم محمد عوامة 4408)
ترقیم عوامۃ: 4409 ترقیم الشثری: -- 4438
٤٤٣٨ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن عطاء بن السائب قال: دخلت المسجد فإذا انا بشيخين يقرا احدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا احدهما قيس بن سكن الاسدي والآخر يقرا عليه سورة مريم فلما بلغ السجدة قال له قيس: دعها فإنا نكره ان (يرانا) (٢) اهل المسجد فتركها وقرا ما بعدها ثم قال قيس: والله ما صرفنا عنها إلا الشيطان اقراها فقراها فسجدنا فلما رفعنا رؤوسنا قال له قيس: تدري ما كان رسول الله ﷺ يقول إذا سجد؟ قال: نعم كان يقول:"سجد وجهي لمن خلقه وشق سمعه وبصره"، قال: صدقت وبلغني ان داود ﵇ (٣) كان يقول: سجد وجهي متعفرا في التراب لخالقي وحق له ثم قال: سبحان الله ما ⦗٤٥٩⦘ اشبه كلام الانبياء بعضهم (ببعض) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (أبو).
(٢) في [هـ]: (يرونا).
(٣) في [ب، جـ، ك]: سقط ﵇.
(٤) في [هـ]: (بعضًا).
(٥) مرسل ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه.
حدثنا ابن فضيل ، عن عطاء بن السائب ، قال:" دخلت المسجد فإذا انا بشيخين يقرا احدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا احدهما قيس بن سكن الاسدي والآخر يقرا عليه سورة مريم فلما بلغ السجدة، قال له قيس: دعها فإنا نكره ان يرانا اهل المسجد فتركها وقرا ما بعدها ثم قال قيس: والله ما صرفنا عنها إلا الشيطان اقراها، فقراها فسجدنا فلما رفعنا رءوسنا، قال له قيس: تدري ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا سجد، قال: نعم كان يقول: " سجد وجهي لمن خلقه وشق سمعه وبصره"، قال صدقت: وبلغني ان داود كان يقول: سجد وجهي متعفرا في التراب لخالقي وحق له ثم قال: سبحان الله، ما اشبه كلام الانبياء بعضهم ببعض
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوا تو دو بوڑھے آدمی بیٹھے تھے، جن میں سے ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھا رہا تھا۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک حضرت قیس بن سکن اسدی تھے، دوسرے آدمی ان سے سورة مریم پڑھ رہے تھے۔ جب وہ آیت سجدہ پر پہنچے تو قیس بن سکن نے کہا کہ اسے چھوڑ دو، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مسجد والے ہمیں دیکھیں۔ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بعد والا حصہ پڑھا۔ پھر حضرت قیس نے فرمایا کہ خدا کی قسم! اس آیت کے چھوڑنے پر ہمیں شیطان نے ابھارا تھا۔ اسے پڑھو۔ چناچہ انہوں نے پڑھا اور ہم نے سجدہ کیا۔ جب ہم نے اپنے سر اٹھائے تو حضرت قیس نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ تلاوت کرتے تھے تو کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں، رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہتے تھے: میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے سماعت وبصار ت سے سرفراز فرمایا۔ حضر ت قیس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضر ت داؤد اپنے سجدوں میں یہ کہا کرتے تھے: میرے چہرے نے مٹی میں لپٹتے ہوئے میرے خالق کو سجدہ کیا اور اس کا حق کے لئے وہ اس ذات کو سجدہ کرے۔ پھر فرمایا کہ سبحان اللہ! انبیاء کا کلام ایک دوسرے کے کتنا مشابہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4438، ترقيم محمد عوامة 4409)
ترقیم عوامۃ: 4410 ترقیم الشثری: -- 4439
٤٤٣٩ - حدثنا وكيع قال: نا الاعمش عن إبراهيم قال: قرا عبد الله السجدة فسجد (قال) (١) (إبراهيم) (٢) : فحدثني من سمعه يقول في سجوده: لبيك وسعديك والخير في يديك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في: [ب، ك].
(٢) سقط: في [جـ].
(٣) مجهول.
حدثنا حدثنا وكيع، قال: نا الاعمش، عن إبراهيم، قال: قرا عبد الله السجدة فسجد، قال إبراهيم: فحدثني من سمعه يقول في سجوده:" لبيك وسعديك والخير في يديك"
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عبداللہ اپنے سجدوں میں یہ کلمات کہا کرتے تھے: اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں سعادت سمجھ کر حاضر ہوں اور ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4439]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4439، ترقيم محمد عوامة 4410)
ترقیم عوامۃ: 4411 ترقیم الشثری: -- 4440
٤٤٤٠ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الزبير بن عدي (ان) (١) إبراهيم لبى وهو ساجد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، خ، س، ط، هـ]: (عن).
حدثنا ابن مهدي، عن سفيان، عن الزبير بن عدي، ان إبراهيم لبى وهو ساجد"
حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سجدۂ تلاوت میں لبیک کہا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4440]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4440، ترقيم محمد عوامة 4411)