🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. من كان يقول: لا (يصليها) حتى تطلع الشمس
اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز سے کوئی دوسری نماز یاد آ جائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4789 ترقیم الشثری: -- 4830
٤٨٣٠ - حدثنا هشيم قال: (انا) (١) حصين بن عبد الرحمن قال: (حدثنا) (٢) عبد الله ابن ابي قتادة عن ابيه ابي قتادة قال: (سرنا) (٣) مع رسول الله ﷺ ونحن في ⦗١٤⦘ سفر ذات ليلة قال: قلنا (٤) يا رسول الله لو عرست بنا فقال:"إني اخاف ان تناموا عن الصلاة فمن يوقظنا للصلاة؟" (٥) فقال بلال: انا يا رسول الله، قال: فعرس بالقوم واضطجعوا واستند بلال إلى راحلته فغلبته عيناه واستيقظ رسول الله ﷺ وقد طلع حاجب الشمس فقال:"يا بلال اين ما قلت لنا؟" فقال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما القيت علي نومة مثلها قال فقال:"إن الله قبض ارواحكم حين شاء وردها عليكم حين شاء"، قال: ثم امرهم فانتشروا لحاجتهم وتوضؤوا وارتفعت الشمس فصلى بهم الفجر (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٢) في [جـ، ك]: (نا).
(٣) في [ب]: (كلنا).
(٤) في [أ، ب]: (فقلنا).
(٥) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٦) صحيح، أخرجه البخاري (٥٩٥)، ومسلم (٦٨١).

حدثنا هشيم ، قال: انا حصين بن عبد الرحمن ، قال: حدثنا عبد الله بن ابي قتادة ، عن ابيه ابي قتادة ، قال: سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في سفر ذات ليلة، قال: قلنا: يا رسول الله , لو عرست بنا، فقال: " إني اخاف ان تناموا عن الصلاة فمن يوقظنا للصلاة؟" فقال بلال: انا يا رسول الله، قال: فعرس بالقوم واضطجعوا، واستند بلال إلى راحلته فغلبته عيناه , واستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد طلع حاجب الشمس، فقال:" يا بلال , اين ما قلت لنا؟" فقال: يا رسول الله , والذي بعثك بالحق ما القيت علي نومة مثلها، قال: فقال:" إن الله قبض ارواحكم حين شاء وردها عليكم حين شاء، قال: ثم امرهم فانتشروا لحاجتهم وتوضئوا وارتفعت الشمس فصلى بهم الفجر"
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ رات کو ہم نے کہا کہ یارسول اللہ! اگر اس وقت ہم پڑاؤ ڈال لیں تو اچھا ہو۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے تم نماز کے وقت میں سوئے رہو گے۔ ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا؟ حضرت بلال نے کہا کہ میں جگاؤں گا۔ چناچہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور سو گئے۔ حضرت بلال نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور ان پر نیند غالب آگئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بلال! جو بات تم نے کہی تھی وہ کیا ہوئی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جیسی نیند مجھے آج آئی اب سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے قبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اپنی ضروریات کے لئے منتشر ہونے کا حکم دیا اور انہوں نے وضو کیا۔ جب سورج بلند ہوگیا تو آپ نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4830، ترقيم محمد عوامة 4789)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 4830 in Urdu