🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. من كان يقول: لا (يصليها) حتى تطلع الشمس
اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز سے کوئی دوسری نماز یاد آ جائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4786 ترقیم الشثری: -- 4826
٤٨٢٦ - حدثنا ابو بكر قال حدثنا (١) عبد الوهاب الثقفي عن ايوب عن محمد بن سيرين عن بعض بني ابي بكرة ان ابا بكرة نام في دالية لهم (فظننا) (٢) انه قد صلى العصر فاستيقظ عند غروب الشمس قال: فانتظر حتى غابت الشمس ثم صلى (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أنا).
(٢) في [جـ، ك]: (وظننا).
(٣) مجهول.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن بعض بني ابي بكرة، ان ابا بكرة نام في دالية لهم فظننا انه قد صلى العصر فاستيقظ عند غروب الشمس، قال: فانتظر حتى غابت الشمس ثم صلى"
بنو ابی بکرہ کے ایک آدمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ ہمارے ایک کمرے میں سو گئے۔ ہم سمجھے کہ انہوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہوگی، وہ سورج کے غروب کے وقت بیدار ہوئے تو انہوں نے سورج کے غروب ہونے کا انتظار کیا پھر نماز پڑھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4826]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4826، ترقيم محمد عوامة 4786)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4787 ترقیم الشثری: -- 4827
٤٨٢٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن سعد (بن) (١) إسحاق عن عبد الرحمن بن عبد الملك بن كعب عن ابيه قال: نمت عن الفجر حتى طلع قرن الشمس، ونحن خارفون (٢) في مال لنا، فملت إلى شربة (٣) من النخل (٤) اتوضا قال: (فبصر بي) (٥) ابي فقال: ما شانك؟ قلت: اصلي قد توضات، فدعاني فاجلسني إلى جنبه (٦) فلما ان تعلت الشمس وابيضت واتيت المسجد ضربني قبل ان اقوم إلى الصلاة (و) (٧) قال: تنسى؟ صل الآن (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، د، هـ]: ورد (عن أبي).
(٢) في [ك]: (خالفون)، وفي [أ]: (عارفون).
(٣) في [أ]: زيادة (لنا).
(٤) في [ب]: (النحل)، وكذا في [أ].
(٥) في [أ]: (فبصرني).
(٦) في [ك]: زيادة (وجهه).
(٧) سقط من: [ب، س، ط، هـ].
(٨) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن عبد الملك بن كعب بن عجرة، أخرجه ابن المنذر في الأوسط ٢/ ٤٠٩ (١١٢٤).

حدثنا ابو خالد الاحمر، عن سعد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن عبد الملك بن كعب، عن ابيه، قال: " نمت عن الفجر حتى طلع قرن الشمس ونحن خارفون في مال لنا، فملت إلى شربة من النخل اتوضا، قال: فبصر بي ابي، فقال: ما شانك؟ قلت: اصلي قد توضات , فدعاني فاجلسني إلى جنبه , فلما ان تعلت الشمس وابيضت واتيت المسجد ضربني قبل ان اقوم إلى الصلاة، قال: تنسى؟ صل الآن"
حضرت عبد الملک بن کعب فرماتے ہیں کہ میں فجر کی نماز کے وقت سو گیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ اس وقت ہم پھل چننے کے لئے اپنی ایک زمین میں تھے۔ میں کھجور کے ایک درخت کے پاس وضو کرنے کے لئے گیا تو میرے والد نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ میں وضو کرکے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا کر مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ جب سورج بلند ہوگیا اور سفید ہوگیا۔ تو انہوں نے میرے نماز شروع کرنے سے پہلے مجھے مارا اور فرمایا کیا تو بھول گیا تھا؟ اب نماز پڑھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4827]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4827، ترقيم محمد عوامة 4787)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4788 ترقیم الشثری: -- 4828
٤٨٢٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد في الرجل إذا نسي ان يصلي صلاة حتى تصفر الشمس قال: يصليها إذا غابت الشمس.
حدثنا غندر، عن شعبة، عن حماد، في الرجل إذا نسي ان يصلي صلاة حتى تصفر الشمس، قال:" يصليها إذا غابت الشمس"،
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی عصر کی نماز پڑھنا بھول جائے یہاں تک کہ سورج زرد پڑجائے تو اسے سورج غروب ہونے کے بعد ادا کرے۔ حضرت قتادہ بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4828]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4828، ترقيم محمد عوامة 4788)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 4829
٤٨٢٩ - وقال قتادة مثل ذلك.
وقال قتادة مثل ذلك
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4829، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4789 ترقیم الشثری: -- 4830
٤٨٣٠ - حدثنا هشيم قال: (انا) (١) حصين بن عبد الرحمن قال: (حدثنا) (٢) عبد الله ابن ابي قتادة عن ابيه ابي قتادة قال: (سرنا) (٣) مع رسول الله ﷺ ونحن في ⦗١٤⦘ سفر ذات ليلة قال: قلنا (٤) يا رسول الله لو عرست بنا فقال:"إني اخاف ان تناموا عن الصلاة فمن يوقظنا للصلاة؟" (٥) فقال بلال: انا يا رسول الله، قال: فعرس بالقوم واضطجعوا واستند بلال إلى راحلته فغلبته عيناه واستيقظ رسول الله ﷺ وقد طلع حاجب الشمس فقال:"يا بلال اين ما قلت لنا؟" فقال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما القيت علي نومة مثلها قال فقال:"إن الله قبض ارواحكم حين شاء وردها عليكم حين شاء"، قال: ثم امرهم فانتشروا لحاجتهم وتوضؤوا وارتفعت الشمس فصلى بهم الفجر (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٢) في [جـ، ك]: (نا).
(٣) في [ب]: (كلنا).
(٤) في [أ، ب]: (فقلنا).
(٥) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٦) صحيح، أخرجه البخاري (٥٩٥)، ومسلم (٦٨١).

حدثنا هشيم ، قال: انا حصين بن عبد الرحمن ، قال: حدثنا عبد الله بن ابي قتادة ، عن ابيه ابي قتادة ، قال: سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في سفر ذات ليلة، قال: قلنا: يا رسول الله , لو عرست بنا، فقال: " إني اخاف ان تناموا عن الصلاة فمن يوقظنا للصلاة؟" فقال بلال: انا يا رسول الله، قال: فعرس بالقوم واضطجعوا، واستند بلال إلى راحلته فغلبته عيناه , واستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد طلع حاجب الشمس، فقال:" يا بلال , اين ما قلت لنا؟" فقال: يا رسول الله , والذي بعثك بالحق ما القيت علي نومة مثلها، قال: فقال:" إن الله قبض ارواحكم حين شاء وردها عليكم حين شاء، قال: ثم امرهم فانتشروا لحاجتهم وتوضئوا وارتفعت الشمس فصلى بهم الفجر"
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ رات کو ہم نے کہا کہ یارسول اللہ! اگر اس وقت ہم پڑاؤ ڈال لیں تو اچھا ہو۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے تم نماز کے وقت میں سوئے رہو گے۔ ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا؟ حضرت بلال نے کہا کہ میں جگاؤں گا۔ چناچہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور سو گئے۔ حضرت بلال نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور ان پر نیند غالب آگئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بلال! جو بات تم نے کہی تھی وہ کیا ہوئی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جیسی نیند مجھے آج آئی اب سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے قبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اپنی ضروریات کے لئے منتشر ہونے کا حکم دیا اور انہوں نے وضو کیا۔ جب سورج بلند ہوگیا تو آپ نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4830، ترقيم محمد عوامة 4789)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4790 ترقیم الشثری: -- 4831
٤٨٣١ - حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى عن ابي سلمة عن جابر قال: جاء عمر يوم الخندق فجعل يسب كفار قريش ويقول: يا رسول الله ما صليت العصر حتى كادت الشمس ان تغيب فقال رسول الله ﷺ:"وانا والله ما صليت بعد"، فنزل فتوضا ثم صلى (العصر) (١) بعد ما غربت الشمس ثم صلى المغرب بعد ما صلى العصر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) حسن، رواية الكوفيين عن علي بن المبارك عن يحيى فيها شيء، ينزلها إلى رتبة الحسن ولكنه متابع، والحديث أخرجه البخاري (٥٧١)، ومسلم (٦٣١).

حدثنا وكيع ، عن علي بن المبارك ، عن يحيى ، عن ابي سلمة ، عن جابر ، قال:" جاء عمر يوم الخندق فجعل يسب كفار قريش، ويقول: يا رسول الله , ما صليت العصر حتى كادت الشمس ان تغيب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وانا والله ما صليت بعد , فنزل فتوضا ثم صلى العصر بعدما غربت الشمس , ثم صلى المغرب بعدما صلى العصر"
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ خندق میں حضرت عمر قریشی سرداروں کو برا بھلا کہتے ہوئے آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میں نے بھی ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بعد مغرب کی نماز ادا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4831]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4831، ترقيم محمد عوامة 4790)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4791 ترقیم الشثری: -- 4832
٤٨٣٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن عوف عن ابي رجاء عن عمران بن حصين قال: (كنا) (١) مع رسول الله ﷺ في سفر وإنا سرينا (الليلة) (٢) حتى إذا كان آخر الليل ⦗١٥⦘ (وقعنا تلك الوقعة ولا وقعة) (٣) عند المسافر احلى منها فما ايقظنا إلا حر الشمس فجعل عمر يكبر فلما استيقظ شكى (٤) الناس إليه ما اصابهم فقال:"لا ضير"، (قال) (٥) : فارتحلوا فساروا غير بعيد ثم نزل فنودي بالصلاة فصلى بالناس (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (كنا)، وفي [هـ، د]: (سرنا).
(٢) في [ب، ط، هـ]: (الليل).
(٣) في [أ]: (وقفنا تلك الوقفة ولا وقفة).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [ب]: سقط (قال).
(٦) صحيح، أخرجه البخاري (٣٤٨)، ومسلم (٦٨٢).

حدثنا مروان بن معاوية ، عن عوف ، عن ابي رجاء ، عن عمران بن حصين ، قال: " سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر وإنا سرينا الليلة حتى إذا كان آخر الليل وقعنا تلك الوقعة ولا وقعة عند المسافر احلى منها فما ايقظنا إلا حر الشمس فجعل عمر يكبر، فلما استيقظ شكا الناس إليه ما اصابهم، فقال: لا ضير، قال: فارتحلوا فساروا غير بعيد ثم نزل فنودي بالصلاة فصلى بالناس"
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے رات کو سفر کیا، رات کے آخری حصہ میں ہم نے پڑاؤ ڈالا اور اس پڑاؤ سے زیادہ محبوب کوئی پڑاؤ مسافر کے لئے نہیں ہوتا۔ پھر ہم ایسا سوئے کہ سورج کی گرمی نے ہمیں بیدار کیا۔ حضرت عمر اس موقع پر تکبیر کہنے لگے۔ جب لوگ بیدار ہوئے تو انہوں نے اس واقعہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ یہاں سے چل پڑو۔ ابھی تھوڑا دور ہی گئے تھے کہ پھر قیام ہوا اور اذان دی گئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4832]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4832، ترقيم محمد عوامة 4791)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں