مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
165. في فعل النبي ﷺ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
ترقیم عوامۃ: 7238 ترقیم الشثری: -- 7350
٧٣٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة قالت: لما مرض رسول الله ﷺ مرضه الذي مات فيه جاء بلال يؤذنه بالصلاة فقال:"مروا ابا بكر فليصل بالناس" قلنا: يا رسول الله (١) إن ابا بكر رجل (٢) (اسيف) (٣) ومتى يقوم مقامك يبكي فلا يستطيع فلو امرت عمر فقال: مروا ابا بكر فليصل بالناس فإنكن صواحبات يوسف" فارسل إلى ابي بكر (فصلى) (٤) بالناس، فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة، فخرج إلى الصلاة يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الارض فلما احس به ابو بكر ذهب يتاخر، فاوما إليه النبي ﷺ ان مكانك، قالت: فجاء النبي ﷺ فجلس إلى جنب ابي بكر فكان ابو بكر، ياتم بالنبي ﷺ والناس ياتمون بابي بكر (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ] زيادة: (ﷺ).
(٢) في [ب، ط، هـ]: زيادة (رقيق).
(٣) في [أ، هـ]: (أسف)، وسقط من: [ب].
(٤) في [ك، ب]: (فيصلى).
(٥) صحيح، أخرجه البخاري (٦٦٤)، ومسلم (٤١٨).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع ، قال: حدثنا الاعمش ، عن إبراهيم ، عن الاسود ، عن عائشة ، قالت: " لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه، جاء بلال يؤذنه بالصلاة، فقال: مروا ابا بكر ؛ فليصل بالناس، قلنا: يا رسول الله، إن ابا بكر رجل رقيق اسيف، ومتى يقوم مقامك يبكي، فلا يستطيع. فلو امرت عمر؟ فقال: مروا ابا بكر ؛ فليصل بالناس، فإنكن صواحبات يوسف، فارسل إلى ابي بكر فصلى بالناس، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة، فخرج إلى الصلاة يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الارض، فلما احس به ابو بكر ذهب يتاخر فاوما إليه النبي صلى الله عليه وسلم ان مكانك، قالت:" فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فجلس إلى جنب ابي بكر، فكان ابو بكر ياتم بالنبي صلى الله عليه وسلم والناس ياتمون بابي بكر"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ! ابوبکر تو ایک نرم دل اور رقیق القلب آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان سے برداشت نہ ہوگا اور وہ رونے لگیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ حضرت عمر کو نماز کا حکم دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو حضرت یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہو۔ پس حضرت ابوبکر کو پیغام دیا گیا اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدن مبارک میں کچھ خفت محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہں و اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7350]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7350، ترقيم محمد عوامة 7238)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 7350 in Urdu