مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
165. في فعل النبي ﷺ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
ترقیم عوامۃ: 7238 ترقیم الشثری: -- 7350
٧٣٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة قالت: لما مرض رسول الله ﷺ مرضه الذي مات فيه جاء بلال يؤذنه بالصلاة فقال:"مروا ابا بكر فليصل بالناس" قلنا: يا رسول الله (١) إن ابا بكر رجل (٢) (اسيف) (٣) ومتى يقوم مقامك يبكي فلا يستطيع فلو امرت عمر فقال: مروا ابا بكر فليصل بالناس فإنكن صواحبات يوسف" فارسل إلى ابي بكر (فصلى) (٤) بالناس، فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة، فخرج إلى الصلاة يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الارض فلما احس به ابو بكر ذهب يتاخر، فاوما إليه النبي ﷺ ان مكانك، قالت: فجاء النبي ﷺ فجلس إلى جنب ابي بكر فكان ابو بكر، ياتم بالنبي ﷺ والناس ياتمون بابي بكر (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ] زيادة: (ﷺ).
(٢) في [ب، ط، هـ]: زيادة (رقيق).
(٣) في [أ، هـ]: (أسف)، وسقط من: [ب].
(٤) في [ك، ب]: (فيصلى).
(٥) صحيح، أخرجه البخاري (٦٦٤)، ومسلم (٤١٨).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع ، قال: حدثنا الاعمش ، عن إبراهيم ، عن الاسود ، عن عائشة ، قالت: " لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه، جاء بلال يؤذنه بالصلاة، فقال: مروا ابا بكر ؛ فليصل بالناس، قلنا: يا رسول الله، إن ابا بكر رجل رقيق اسيف، ومتى يقوم مقامك يبكي، فلا يستطيع. فلو امرت عمر؟ فقال: مروا ابا بكر ؛ فليصل بالناس، فإنكن صواحبات يوسف، فارسل إلى ابي بكر فصلى بالناس، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة، فخرج إلى الصلاة يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الارض، فلما احس به ابو بكر ذهب يتاخر فاوما إليه النبي صلى الله عليه وسلم ان مكانك، قالت:" فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فجلس إلى جنب ابي بكر، فكان ابو بكر ياتم بالنبي صلى الله عليه وسلم والناس ياتمون بابي بكر"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ! ابوبکر تو ایک نرم دل اور رقیق القلب آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان سے برداشت نہ ہوگا اور وہ رونے لگیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ حضرت عمر کو نماز کا حکم دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو حضرت یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہو۔ پس حضرت ابوبکر کو پیغام دیا گیا اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدن مبارک میں کچھ خفت محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہں و اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7350]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7350، ترقيم محمد عوامة 7238)
ترقیم عوامۃ: 7239 ترقیم الشثری: -- 7351
٧٣٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن انس قال: لما مرض رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه اتاه بلال فآذنه بالصلاة فقال:"يا بلال قد بلغت فمن شاء فليصل ومن شاء فليدع"، فقال يارسول الله فمن يصلي بالناس؟ قال:"مروا ابا بكر فليصل بالناس"، فلما تقدم ابو بكر رفعت الستور عن رسول الله ﷺ فنظرنا إليه كانه ورقة بيضاء عليه خميصة، فظن ابو بكر انه يريد الخروج فتاخر، واشار إليه رسول الله ﷺ ان صل مكانك، فصلى ابو بكر وما راينا رسول الله ﷺ حتى مات من يومه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ سفيان ضعيف في الزهري، وأخرجه أحمد (١٣٠٩٣)، وأبو يعلى (٣٥٦٧)، وأصل الحديث في البخاري (٧٥٤)، ومسلم (٤١٩).
حدثنا يزيد بن هارون ، قال: اخبرنا سفيان بن حسين ، عن الزهري ، عن انس ، قال: " لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه اتاه بلال فآذنه بالصلاة، فقال: يا بلال قد بلغت، فمن شاء فليصل، ومن شاء فليدع! فقال: يا رسول الله، فمن يصلي بالناس؟ قال: مروا ابا بكر فليصل بالناس فلما تقدم ابو بكر رفعت الستور عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنظرنا إليه، كانه ورقة بيضاء عليه خميصة، فظن ابو بكر انه يريد الخروج فتاخر، واشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان صل مكانك، فصلى ابو بكر وما راينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات من يومه"
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال! تم نے پیغام پہنچا دیا اب جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! تو پھر لوگوں کو نماز کون پڑھائے؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضرت ابوبکر نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرۂ مبارک کے خیمے اٹھائے گئے اور آپ وہاں سے یوں تشریف لائے کہ آپ کا چہرہ مبارک چاندی کے ٹکڑے کی طرح محسوس ہورہا تھا۔ آپ پر سیاہ رنگ کی ایک چادر تھی۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا توس مجھے کہ شاید آپ تشریف لانا چاہتے ہیں لہٰذا وہ مصلے سے پیچھے ہٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھاتے رہیں۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا اور اسی دن آپ کا وصال ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7351]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7351، ترقيم محمد عوامة 7239)
ترقیم عوامۃ: 7240 ترقیم الشثری: -- 7352
٧٣٥٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن ابي بردة عن ابي موسى قال: مرض رسول الله ﷺ فاشتد مرضه فقال:"مروا ابا بكر فليصل بالناس"، فقالت عائشة: (يا رسول الله) (١) إن ابا بكر رجل رقيق، متى يقوم مقامك فلا يستطيع ان يصلي بالناس، فقال:"مري ابا بكر فليصل بالناس، فإنكن صواحب يوسف"، قال: فصلى بهم ابو بكر في حياة رسول الله ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) صحيح، أخرجه البخاري (٦٧٨)، ومسلم (٤٢٠).
حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن عبد الملك بن عمير ، عن ابي بردة ، عن ابي موسى ، قال: " مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشتد مرضه، فقال: مروا ابا بكر فليصل بالناس، فقالت عائشة: يا رسول الله، إن ابا بكر رجل رقيق، متى يقوم مقامك ؛ فلا يستطيع ان يصلي بالناس! فقال: مري ابا بكر فليصل بالناس ؛ فإنكن صواحب يوسف، قال: فصلى بهم ابو بكر في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم"
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں جب آپ کا مرض شدت پکڑ گیا تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی نمازکا کہو، تم تو صواحبِ یوسف کی طرح ہو۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7352]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7352، ترقيم محمد عوامة 7240)
ترقیم عوامۃ: 7241 ترقیم الشثری: -- 7353
٧٣٥٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن ابيه عن ابي (الزبير) (١) عن جابر ان رسول الله ﷺ امهم وكان ابو بكر خلفه (فيكبر) (٢) النبي ﷺ (فيكبر) (٣) ابو بكر يسمع الناس (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (زبير).
(٢) في [ب، ز]: (فكبر).
(٣) في [أ، ب، ز]: (فكبر).
(٤) صحيح، أخرجه مسلم (٤١٣)، والنسائي ٢/ ٨٤، والطحاوي ١/ ٤٠٣، والبيهقي ٣/ ٨٩.
حدثنا حميد بن عبد الرحمن ، عن ابيه ، عن ابي زبير ، عن جابر :" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امهم وكان ابو بكر خلفه، فيكبر النبي صلى الله عليه وسلم، فيكبر ابو بكر ؛ يسمع الناس"
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، حضرت ابوبکر آپ کے پیچھے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر کہتے تو حضرت ابوبکر بلند آواز سے تکبیر کہہ لوگوں تک تکبیر کی آواز پہنچاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7353]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7353، ترقيم محمد عوامة 7241)
ترقیم عوامۃ: 7242 ترقیم الشثری: -- 7354
٧٣٥٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد الله قال: لما قبض النبي ﷺ قالت الانصار: منا امير ومنكم امير فاتاهم عمر (فقال) (١) : يا معشر الانصار الستم تعلمون ان رسول الله ﷺ امر ابا بكر (يصلي) (٢) بالناس قالوا: (بلى) (٣) قال: فايكم تطيب نفسه ان يتقدم ابا بكر (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٣٧٦٥)، والحاكم ٣/ ٦٧، والنسائي ٢/ ٧٤، وابن سعد ٣/ ١٧٨، ويعقوب في المعرفة (١/ ٤٥٤)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٥٩)، والبيهقي ٨/ ١٥٢، والضياء في المختارة (٢٢٩).
حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن عاصم ، عن زر ، عن عبد الله ، قال: " لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم، قالت الانصار:" منا امير ومنكم امير، فاتاهم عمر، فقال: يا معشر الانصار الستم تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر ابا بكر يصلي بالناس؟ قالوا: بلى، قال: فايكم تطيب نفسه ان يتقدم ابا بكر!"
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا تو انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک تم میں سے۔ اس پر حضرت عمر ان کے پاس آئے اور ان سے کہا اے انصار کی جماعت! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے کہا جی ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تم میں سے کس کا دل کرے گا کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7354]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7354، ترقيم محمد عوامة 7242)
ترقیم عوامۃ: 7243 ترقیم الشثری: -- 7355
٧٣٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد قال: سمعت ابا سلمة ابن عبد الرحمن يحدث ان النبي ﷺ اشتكى فقال:"مروا ابا بكر فليصل بالناس" فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة (فخرج) (١) فلما رآه ابو بكر ذهب ليتاخر، فاوما إليه النبي ﷺ مكانك فجاء النبي ﷺ حتى جلس إلى جنب ابي بكر، فكان ابو بكر ياتم بالنبي ﷺ والناس ياتمون بابي بكر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (خرج).
(٢) مرسل؛ أبو سلمة تابعي.
حدثنا وكيع ، قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد ، قال: سمعت ابا سلمة بن عبد الرحمن يحدث:" ان النبي صلى الله عليه وسلم اشتكى، فقال: مروا ابا بكر فليصل بالناس، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة فخرج، فلما رآه ابو بكر ذهب ليتاخر، فاوما إليه النبي صلى الله عليه وسلم مكانك، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم حتى جلس إلى جنب ابي بكر، فكان ابو بكر ياتم بالنبي صلى الله عليه وسلم والناس ياتمون بابي بكر"
حضرت ابو سلمہ بن عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الوفات کا شکار ہوئے تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ کچھ دیر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک میں خفت محسوس کی تو آپ باہر تشریف لے آئے۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ کو تشریف لاتے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7355]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7355، ترقيم محمد عوامة 7243)
ترقیم عوامۃ: 7244 ترقیم الشثری: -- 7356
٧٣٥٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم بن ابي النجود عن شقيق عن مسروق عن عائشة قالت: اغمي على النبي ﷺ فلما افاق قال:"اصل الناس؟" (قالت) (١) : فقلنا: لا، قال:"مروا ابا بكر فليصل بالناس"، قالت: فقلنا: يا رسول الله (٢) إن ابا بكر رجل اسيف -قال:" (٣) عاصم الاسيف الرقيق الرحيم- وانه متى (يقم) (٤) مقامك لا يستطيع ان يصلي بالناس"، قالت: ثم اغمي عليه ثم افاق فقال مثل ذلك فرددت عليه ثلاث مرات فقال:"إنكن صواحب يوسف مروا ابا بكر فليصل بالناس"، فقالت: فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة، فخرج بين بريرة و (توبة) (٥) (تخط) (٦) ⦗٣٤⦘ نعلاه إني (لارى) (٧) (بياض) (٨) (بطون) (٩) قدميه وابو بكر يؤم الناس فلما رآه ابو بكر ذهب يتاخر فاوما إليه رسول الله ﷺ ان لا يتاخر (قالت) (١٠) : فقام ابو بكر بجنب النبي ﷺ (والنبي ﷺ) (١١) قاعد، يصلي ابو بكر بصلاة النبي ﷺ والناس يصلون بصلاة ابي بكر (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ز، ك]: (قال).
(٢) في [هـ]: زيادة (ﷺ).
(٣) في [أ، ب، ك]: زيادة (أبو).
(٤) في [أ، هـ]: (يقوم).
(٥) كذا في النسخ بالتاء، وانظر: مقدمة فتح الباري ص ٢٦٣، وورد أنه بالنون (نوبة) كما في صحيح ابن حبان (٢١١٨)، والمعرفة ١/ ٢٣٨، وفتح الباري ٤/ ١٥٤، ورجح أنه رجل، وكذا في عمدة القاري ٥/ ١٩٠، والإكمال ١/ ٣٧٣، وتوضيح المشتبه ١/ ٦٧١، والإصابة ٨/ ١٤٤، وعدّها مع النساء، وكذا في أسد الغابة ٥/ ٣٨٩.
(٦) في [هـ]: (يخط).
(٧) سقطت من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) في [أ، ب، ك، ز] زيادة: (قالت).
(١١) سقط من: [ل].
(١٢) ضعيف؛ عاصم في ضعيف في شقيق، أخرجه ابن حبان (٢١١٨)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٤٥٣، وانظر ما بعده برقم [٧٣٥٧] ورقم [٧٣٥٨].
حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن عاصم بن ابي النجود ، عن شقيق ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت: " اغمي على النبي صلى الله عليه وسلم، فلما افاق، قال: اصلى الناس؟ قالت: فقلنا: لا، قال: مروا ابا بكر فليصل بالناس، قالت: فقلنا يا رسول الله، إن ابا بكر رجل اسيف، قال عاصم: الاسيف: الرقيق الرحيم، وإنه متى يقم مقامك لا يستطيع ان يصلي بالناس، قالت: ثم اغمي عليه، ثم افاق، فقال: مثل ذلك، فرددت عليه ثلاث مرات، فقال: إنكن صواحب يوسف ؛ مروا ابا بكر فليصل بالناس، فقالت: فوجد النبي صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة فخرج بين بريرة ونوبة تخط نعلاه، إني لارى بياض بطون قدميه، وابو بكر يؤم الناس، فلما رآه ابو بكر ذهب يتاخر، فاوما إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا يتاخر، فقام ابو بكر بجنب النبي، صلى الله عليه وسلم، والنبي، صلى الله عليه وسلم، قاعد. يصلي ابو بكر بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم، والناس يصلون بصلاة ابي بكر"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ! وہ انتہائی نرم دل اور مہربان آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، جب افاقہ ہوا تو آپ نے پھر وہی بات فرمائی، میں نے آپ کو تین مرتبہ جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ تم یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہوں، ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک میں کچھ خفت محسوس کی، آپ بریرہ اور نوبہ کے سہارے سے باہر تشریف لے گئے، جسم مبارک میں کمزوری کی وجہ سے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے اور میں آپ کے تلووں کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ تو پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے انہیں وہیں کھڑے رہنے کا حکم دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کررہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7356]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7356، ترقيم محمد عوامة 7244)
ترقیم عوامۃ: 7245 ترقیم الشثری: -- 7357
٧٣٥٧ - حدثنا شبابة (بن سوار) (١) قال: حدثنا شعبة عن نعيم بن ابي هند عن ابي وائل عن مسروق عن عائشة قالت: صلى رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه خلف ابي بكر (قاعدا) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [ب، ك]: (قاعد).
(٣) شاذ، خالف شبابة فيه بقية الرواة عن شعبة، وأخرجه أحمد (٢٥٢٥٧)، والترمذي (٣٦٢)، والطحاوي ٦/ ٤٠١، ويعقوب في المعرفة ١/ ٤٥٣، وابن المنذر في الأوسط (٢٠٤٠)، والبيهقي (٣/ ٨٣)، وابن حبان (٢١١٩)، وانظر البخاري (٣٣٨٤)، والنسائي ٢/ ٧٩، وابن خزيمة (١٦٢١)، وابن حبان (٢١١٧)، والطحاوي (٤٢٠٩).
حدثنا شبابة بن سوار ، قال: حدثنا شعبة ، عن نعيم بن ابي هند ، عن ابي وائل ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت: " صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه خلف ابي بكر قاعدا"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر کے پیچھے نماز اد ا کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7357]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7357، ترقيم محمد عوامة 7245)
ترقیم عوامۃ: 7246 ترقیم الشثری: -- 7358
٧٣٥٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن موسى بن ابي عائشة عن عبيد الله ابن عبد الله بن عتبة قال: دخلت على عائشة فقلت لها الا (تحدثيني) (١) عن مرض رسول الله ﷺ قالت: بلى ثقل رسول الله ﷺ فقال:"اصلى الناس؟" (فقلت) (٢) : ⦗٣٥⦘ لا، هم ينتظرونك يا رسول الله (فقال) :"ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فاغمي عليه، ثم افاق فقال:"اصلى الناس؟" فقلنا (لا) (٣) هم ينتظرونك [ (فقال) (٤) :"ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فاغمي عليه، ثم افاق فقال:"اصلى الناس؟" فقلنا: هم ينتظرونك] (٥) يا رسول الله والناس (عكوف) (٦) في المسجد ينتظرون رسول الله ﷺ (لصلاة) (٧) العشاء الآخرة، قالت: فارسل رسول الله ﷺ إلى ابي بكر ان صل بالناس (فاتاه الرسول فقال: إن رسول الله ﷺ يامرك ان تصلي بالناس) (٨) فقال ابو بكر وكان رجلا رقيقا: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر: انت احق بذلك، فصلى بهم ابو بكر تلك الايام قالت: ثم إن رسول الله ﷺ وجد (من) (٩) نفسه خفة فخرج بين رجلين لصلاة الظهر، وابو بكر يصلي بالناس، قالت: فلما رآه ابو بكر ذهب ليتاخر فاوما إليه النبي ﷺ ان لا (يتاخر) (١٠) وقال لهما:"اجلساني إلى جنبه"، فاجلساه إلى جنب ابي بكر فجعل ابو بكر يصلي (وهو) (١١) (قائم) (١٢) بصلاة النبي ﷺ والناس (يصلون) (١٣) بصلاة ابي بكر والنبي ﷺ قاعد، قال عبيد الله: فدخلت ⦗٣٦⦘ على عبد الله بن عباس فقلت: الا اعرض عليك ما حدثتني (به) (١٤) عائشة (من) (١٥) مرض رسول الله ﷺ فقال: هات (فعرضت) (١٦) عليه حديثها فما انكر منه شيئا (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (تحدثني).
(٢) في [أ، ب، ك]: (فقالت).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (قال).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٦) في [أ]: (عاكفون).
(٧) في [أ]: (صلاة).
(٨) سقط من: [أ، ب، ك].
(٩) في [ط، هـ]: (في).
(١٠) في [ب]: (تتأخر).
(١١) سقط من: [أ، ب، ك].
(١٢) في [أ، ب]: (قائمًا).
(١٣) سقط من: [أ، ب، ك].
(١٤) سقط من: [ز].
(١٥) في [ز]: (عن).
(١٦) في [ب، ك]: (فعرضته).
(١٧) صحيح، أخرجه البخاري (٦٨٧)، ومسلم (٤١٨).
حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن موسى بن ابي عائشة ، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة ، قال:" دخلت على عائشة فقلت لها الا تحدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: بلى ؛ ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: اصلى الناس؟، فقلت: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، فقال: ضعوا لي ماء في المخضب، قالت: ففعلنا فاغتسل، ثم ذهب لينوء فاغمي عليه، ثم افاق، فقال: اصلى الناس؟ فقلنا: لا، هم ينتظرونك، فقال: ضعوا لي ماء في المخضب، قالت: ففعلنا فاغتسل، ثم ذهب لينوء، فاغمي عليه، ثم افاق، فقال: اصلى الناس؟، فقلنا: هم ينتظرونك يا رسول الله، والناس عكوف في المسجد ينتظرون رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة العشاء الآخرة. قالت: فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى ابي بكر ان صل بالناس، فاتاه الرسول، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك ان تصلي بالناس، فقال ابو بكر، وكان رجلا رقيقا ,: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر:" انت احق بذلك" فصلى بهم ابو بكر تلك الايام، قالت: ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد في نفسه خفة، فخرج بين رجلين لصلاة الظهر وابو بكر يصلي بالناس، قالت: فلما رآه ابو بكر ذهب ليتاخر، فاوما إليه النبي صلى الله عليه وسلم ان لا يتاخر، وقال لهما: اجلساني إلى جنبه، فاجلساه إلى جنب ابي بكر فجعل ابو بكر يصلي وهو قائم بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم والناس يصلون بصلاة ابي بكر، والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد." قال عبيد الله: فدخلت على عبد الله بن عباس، فقلت: الا اعرض عليك ما حدثتني به عائشة من مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم،؟ فقال: هات فعرضت عليه حديثها، فما انكر منه شيئا"
حضرت عبید اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے میں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت مبارکہ بہت بوجھل ہوگئی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ میں نے کہا نہیں، ابھی نہیں پڑھی۔ اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ چناچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ لوگ مسجد میں رکے ہوئے عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے آپ کے منتظر تھے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو پیغام بھجوایا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو نماز پڑھنے کا حکم دے رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر ایک نرم دل آدمی تھے، انہوں نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ آپ اس کے زیادہ حقد ار ہیں۔ چناچہ ان دنوں میں حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر آپ کی طبیعت مبارکہ میں کچھ بہتری آئی تو آپ ظہر کی نماز کے لئے دو آدمیوں کے درمیان ان کے سہارے سے چلتے ہوئے مسجد تشریف لے گئے۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے اشارے سے انہیں پیچھے ہٹنے سے منع کیا اور ان دونوں آدمیوں سے کہا کہ مجھے ان کے ساتھ بٹھا دو۔ ان دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے ساتھ بٹھا دیا۔ حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کی اقتداء کررہے تھے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کا وہ واقعہ سناؤں جو مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بیان کرو۔ میں نے بیان کیا تو انہوں نے اس واقعہ میں سے ایک بات کا بھی انکار نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7358، ترقيم محمد عوامة 7246)
ترقیم عوامۃ: 7247 ترقیم الشثری: -- 7359
٧٣٥٩ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابن سيرين عن عمرو بن وهب عن المغيرة (ابن) (١) شعبة ان النبي ﷺ صلى خلف عبد الرحمن بن عوف (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ل]: (عن).
(٢) صحيح، أخرجه أحمد (١٨١٣٤)، والنسائي (١/ ٦٣)، وابن خزيمة (١٠٦٤)، والطبراني ٢٠/ (١٠٣٧)، وابن سعد ٣/ ١٢٩، والبيهقي (٣/ ٩٢)، والدارمي (١٣٣٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١١/ ١٥٩، والمزي (٢٢/ ٢٩٢)، وابن عساكر ٣٥/ ٢٥٩، والطحاوي في شرح المشكل (٥٦٥٣).
حدثنا ابن علية ، عن ايوب ، عن ابن سيرين ، عن عمرو بن وهب ، عن المغيرة بن شعبة :" ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى خلف عبد الرحمن بن عوف"
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7359]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7359، ترقيم محمد عوامة 7247)