🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
165. في فعل النبي ﷺ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7246 ترقیم الشثری: -- 7358
٧٣٥٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن موسى بن ابي عائشة عن عبيد الله ابن عبد الله بن عتبة قال: دخلت على عائشة فقلت لها الا (تحدثيني) (١) عن مرض رسول الله ﷺ قالت: بلى ثقل رسول الله ﷺ فقال:"اصلى الناس؟" (فقلت) (٢) : ⦗٣٥⦘ لا، هم ينتظرونك يا رسول الله (فقال) :"ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فاغمي عليه، ثم افاق فقال:"اصلى الناس؟" فقلنا (لا) (٣) هم ينتظرونك [ (فقال) (٤) :"ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فاغمي عليه، ثم افاق فقال:"اصلى الناس؟" فقلنا: هم ينتظرونك] (٥) يا رسول الله والناس (عكوف) (٦) في المسجد ينتظرون رسول الله ﷺ (لصلاة) (٧) العشاء الآخرة، قالت: فارسل رسول الله ﷺ إلى ابي بكر ان صل بالناس (فاتاه الرسول فقال: إن رسول الله ﷺ يامرك ان تصلي بالناس) (٨) فقال ابو بكر وكان رجلا رقيقا: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر: انت احق بذلك، فصلى بهم ابو بكر تلك الايام قالت: ثم إن رسول الله ﷺ وجد (من) (٩) نفسه خفة فخرج بين رجلين لصلاة الظهر، وابو بكر يصلي بالناس، قالت: فلما رآه ابو بكر ذهب ليتاخر فاوما إليه النبي ﷺ ان لا (يتاخر) (١٠) وقال لهما:"اجلساني إلى جنبه"، فاجلساه إلى جنب ابي بكر فجعل ابو بكر يصلي (وهو) (١١) (قائم) (١٢) بصلاة النبي ﷺ والناس (يصلون) (١٣) بصلاة ابي بكر والنبي ﷺ قاعد، قال عبيد الله: فدخلت ⦗٣٦⦘ على عبد الله بن عباس فقلت: الا اعرض عليك ما حدثتني (به) (١٤) عائشة (من) (١٥) مرض رسول الله ﷺ فقال: هات (فعرضت) (١٦) عليه حديثها فما انكر منه شيئا (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (تحدثني).
(٢) في [أ، ب، ك]: (فقالت).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (قال).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٦) في [أ]: (عاكفون).
(٧) في [أ]: (صلاة).
(٨) سقط من: [أ، ب، ك].
(٩) في [ط، هـ]: (في).
(١٠) في [ب]: (تتأخر).
(١١) سقط من: [أ، ب، ك].
(١٢) في [أ، ب]: (قائمًا).
(١٣) سقط من: [أ، ب، ك].
(١٤) سقط من: [ز].
(١٥) في [ز]: (عن).
(١٦) في [ب، ك]: (فعرضته).
(١٧) صحيح، أخرجه البخاري (٦٨٧)، ومسلم (٤١٨).

حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن موسى بن ابي عائشة ، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة ، قال:" دخلت على عائشة فقلت لها الا تحدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: بلى ؛ ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: اصلى الناس؟، فقلت: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، فقال: ضعوا لي ماء في المخضب، قالت: ففعلنا فاغتسل، ثم ذهب لينوء فاغمي عليه، ثم افاق، فقال: اصلى الناس؟ فقلنا: لا، هم ينتظرونك، فقال: ضعوا لي ماء في المخضب، قالت: ففعلنا فاغتسل، ثم ذهب لينوء، فاغمي عليه، ثم افاق، فقال: اصلى الناس؟، فقلنا: هم ينتظرونك يا رسول الله، والناس عكوف في المسجد ينتظرون رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة العشاء الآخرة. قالت: فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى ابي بكر ان صل بالناس، فاتاه الرسول، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك ان تصلي بالناس، فقال ابو بكر، وكان رجلا رقيقا ,: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر:" انت احق بذلك" فصلى بهم ابو بكر تلك الايام، قالت: ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد في نفسه خفة، فخرج بين رجلين لصلاة الظهر وابو بكر يصلي بالناس، قالت: فلما رآه ابو بكر ذهب ليتاخر، فاوما إليه النبي صلى الله عليه وسلم ان لا يتاخر، وقال لهما: اجلساني إلى جنبه، فاجلساه إلى جنب ابي بكر فجعل ابو بكر يصلي وهو قائم بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم والناس يصلون بصلاة ابي بكر، والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد." قال عبيد الله: فدخلت على عبد الله بن عباس، فقلت: الا اعرض عليك ما حدثتني به عائشة من مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم،؟ فقال: هات فعرضت عليه حديثها، فما انكر منه شيئا"
حضرت عبید اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے میں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت مبارکہ بہت بوجھل ہوگئی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ میں نے کہا نہیں، ابھی نہیں پڑھی۔ اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ چناچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ لوگ مسجد میں رکے ہوئے عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے آپ کے منتظر تھے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو پیغام بھجوایا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو نماز پڑھنے کا حکم دے رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر ایک نرم دل آدمی تھے، انہوں نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ آپ اس کے زیادہ حقد ار ہیں۔ چناچہ ان دنوں میں حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر آپ کی طبیعت مبارکہ میں کچھ بہتری آئی تو آپ ظہر کی نماز کے لئے دو آدمیوں کے درمیان ان کے سہارے سے چلتے ہوئے مسجد تشریف لے گئے۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے اشارے سے انہیں پیچھے ہٹنے سے منع کیا اور ان دونوں آدمیوں سے کہا کہ مجھے ان کے ساتھ بٹھا دو۔ ان دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے ساتھ بٹھا دیا۔ حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کی اقتداء کررہے تھے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کا وہ واقعہ سناؤں جو مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بیان کرو۔ میں نے بیان کیا تو انہوں نے اس واقعہ میں سے ایک بات کا بھی انکار نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7358، ترقيم محمد عوامة 7246)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 7358 in Urdu