سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
11. باب إمامة جبرائيل
باب: حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
ترقیم العلمیہ : 1013 ترقیم الرسالہ : -- 1026
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ يُعَلِّمُكُمْ دِينِكُمْ"، فَصَلَّى وَذَكَرَ حَدِيثَ الْمَوَاقِيتِ، وَقَالَ فِيهِ:" ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔“ پھر آپ نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات سے متعلق روایت ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہ بات نقل کی ہے: پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوئے اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1026]
ترقیم العلمیہ: 1013
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
«قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
«قال الترمذي: حسن، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي