سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
35. باب ما يجزيه من الدعاء عند العجز عن قراءة فاتحة الكتاب
باب: جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا؟
ترقیم العلمیہ : 1184 ترقیم الرسالہ : -- 1198
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ الأَنْطَاكِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، وَسُئِلَتْ عَنْ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَتْ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الم {1} اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ {2} نزل عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَى قَوْلِهِ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ آمَنَّا بِهِ سورة آل عمران آية 1ـ7، فَإِذَا رَأَيْتُمْ أُولَئِكَ فَهُمُ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ" .
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا، ان سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے یہ پڑھا: ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے آغاز کرتی ہوں، جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، الم، اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ حی اور قیوم ہے، اس نے تم پر کتاب نازل کی ہے۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”وہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں، جو اس میں متشابہ ہیں، تاکہ وہ فتنہ تلاش کریں اور اس کی تاویل تلاش کریں، حالانکہ اس کی تاویل کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور جن لوگوں کو علم میں رسوخ حاصل ہوتا ہے، وہ یہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو، تو یہ وہی لوگ ہوں گے، جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے، تو تم ان سے بچو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1198]
ترقیم العلمیہ: 1184
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4547، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2665، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 73، 76، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4598، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2993، 2994، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 147، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 47، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 492، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1198، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24847»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عبد الجبار بن الورد القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق