سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
باب: نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے"۔
ترقیم العلمیہ : 1234 ترقیم الرسالہ : -- 1249
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُنَا إِذَا صَلَّى بِنَا قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" . هَكَذَا أَمْلاهُ عَلَيْنَا أَبُو حَامِدٍ مُخْتَصَرًا، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ سیدنا ابوموسیٰ نے ہمیں بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قراءت کرے تو تم لوگ خاموش رہو۔“ شیخ ابوحامد نے اس روایت کو اسی طرح مختصر طور پر ہمیں املاء کروایا ہے۔ اس روایت کا راوی سالم بن نوح مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1249]
ترقیم العلمیہ: 1234
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 404، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1584، 1593، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2167، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 829، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 972، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1351، 1398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 847، 901، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2661، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1249، 1250، 1332، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19813»
«قال البيهقي: أجمع الحفاظ على خطأ هذه اللفظة وإذا قرأ الإمام فأنصتوا في الحديث أبو داود وأبو حاتم وابن معين والحاكم والدارقطني وقالوا إنها ليست بمحفوظة، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 254)»
«قال البيهقي: أجمع الحفاظ على خطأ هذه اللفظة وإذا قرأ الإمام فأنصتوا في الحديث أبو داود وأبو حاتم وابن معين والحاكم والدارقطني وقالوا إنها ليست بمحفوظة، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 254)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1249 in Urdu
حطان بن عبد الله البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري