سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
12. باب الدباغ
باب: چمڑے کو پاک کرنا
ترقیم العلمیہ : 121 ترقیم الرسالہ : -- 125
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الرَّقِّيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، قَالَ: نا فرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ لَهَا شَاةٌ تَحْتَلِبُهَا، فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَتِ الشَّاةُ؟"، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ:" أَفَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟، قُلْنَا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دِبَاغَهَا يَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ خَلُّ الْخَمْرِ" . تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کی ایک بکری تھی جس کا وہ دودھ دوھ لیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بکری نظر نہیں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”بکری کہاں ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: وہ مر گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے؟“ ہم نے عرض کی: وہ تو مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دباغت اسے حلال کر دیتی ہے، جس طرح سرکہ، شراب کو حلال کر دیتا ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں فرج بن فضالہ منفرد ہے اور یہ ”ضعیف“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 125]
ترقیم العلمیہ: 121
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 82، 11322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 116، 117، 119، 125، 4707، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 25، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 538، وقال الدارقطني: تفرد به فرج بن فضالة وهو ضعيف، سنن الدارقطني:، 125»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 125 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← أم سلمة زوج النبي