یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
54. باب ذكر وجوب الصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم فى التشهد واختلاف الروايات فى ذلك
باب: تشہد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنا واجب ہے، اس بارے میں منقول روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 1323 ترقیم الرسالہ : -- 1339
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، ثنا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلاتِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الأَنْصَارِيِّ أَخِي بِالْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا السَّلامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلاتِنَا؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ.
ابن اسحاق نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بارے میں مجھے یہ حدیث سنائی ہے، جب کوئی مسلمان شخص نماز کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔ (ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، ہم اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس موجود تھے، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنے کے طریقے سے تو ہم واقف ہو چکے ہیں، جب ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، تو اس دوران آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی کہ اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا، لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم مجھ پر درود بھیجنا چاہو، تو یہ پڑھو: اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کر، جو امی ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر بھی (درود نازل کر)، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا تھا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جو امی نبی ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکتیں نازل کر، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل کیں، بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1339]
ترقیم العلمیہ: 1323
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 405، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 573، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 711، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1958، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3220، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1382، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2892، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1339، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17341»
«قال البيهقي: هذا إسناد صحيح، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (5 / 360)»
«قال البيهقي: هذا إسناد صحيح، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (5 / 360)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1339 in Urdu
محمد بن عبد الله الأنصاري ← أبو مسعود الأنصاري