سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
17. باب الاستنجاء
باب: استنجاء کا بیان
ترقیم العلمیہ : 140 ترقیم الرسالہ : -- 144
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ يَسْتهْزِئُ بِهِ: إِنِّي لأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ: أَجَلْ أَمَرَنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ لا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلا نَسْتَدْبِرَهَا، وَلا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلا نَسْتَكْفِيَ بِدُونِ ثَلاثِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا عَظْمٌ وَلا رَجِيعٌ" .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کسی مشرک نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے یہ کہا: میں نے یہ بات نوٹ کی ہے، آپ کے آقا نے آپ کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ رفع حاجت کے طریقے کی بھی تعلیم دی ہے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں! اللہ کے رسول نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے، ہم استنجا کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کریں اور دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم کے ذریعہ استنجا نہ کریں، ان پتھروں میں کوئی ہڈی یا مینگنی نہیں ہونی چاہیے۔“ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 144]
ترقیم العلمیہ: 140
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 262، 262، وابن الجارود فى "المنتقى"، 32، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 74، 81، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 41، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 40، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 7، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 16، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 316، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 144، 145، 146، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24199»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← سلمان الفارسي