سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
83. باب صلاة النساء جماعة وموقف إمامهن
باب: خواتین کا باجماعت نماز ادا کرنا، ان کی امام کہاں کھڑی ہوگی؟
ترقیم العلمیہ : 1492 ترقیم الرسالہ : -- 1509
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" مَنْ ذَا الَّذِي يَخْتَلِجُ سُورَتَهُمْ؟"، فَنَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ . قَوْلُهُ: فَنَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ، وَهْمٌ مِنْ حَجَّاجٍ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَغَيْرُهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک شخص نے آپ کی اقتداء میں قراءت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون شخص ان سورتوں کے درمیان خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا؟“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع کر دیا۔ امام دار قطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: روایت کے یہ الفاظ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع کر دیا“، یہ راوی کا وہم ہے، جو حجاج کو لاحق ہوا ہے، درست روایت وہ ہے، جو دیگر راویوں نے قتادہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1509]
ترقیم العلمیہ: 1492
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 398، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1845، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 916، 1743، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 828، 829، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1509، 1510، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 857، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20129»
الرواة الحديث:
زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي