علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
7. ما يقرأ فى ركعات الوتر والقنوت فيه
باب وتر کی رکعت میں کون سی سورت کی قرأت کی جائے ‘ اس میں دعائے قنوت پڑھنا
ترقیم العلمیہ : 1655 ترقیم الرسالہ : -- 1673
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ: قُلْتُ لا يَغْلِبُنِي اللَّيْلَةَ عَلَى الْمَقَامِ أَحَدٌ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ ، فَتَنَحَّيْتُ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ فَقَرَأَهُ فِي رَكْعَةٍ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَةً؟ فَقَالَ:" هِيَ وِتْرِي" .
عبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ میں نے سوچا کہ آج رات مجھے کوئی مقام ابراہیم سے الگ نہ کر سکے گا، ایک شخص آیا، اس نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا، میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے، میں پیچھے ہٹ گیا، انہوں نے قرآن کی تلاوت شروع کی اور ایک رکعت میں اسے پڑھ لیا، میں نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! آپ نے ایک رکعت ادا کی،“ تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ میرے وتر تھے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الوتر/حدیث: 1673]
ترقیم العلمیہ: 1655
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4859، 4860، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1673، وأورده ابن حجر فى ((المطالب العالية))، 582، 3909، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3720، 8678، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1750»
«قال المبارکفوری: إسناده حسن، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 340)»
«قال المبارکفوری: إسناده حسن، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 340)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1673 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← عثمان بن عفان