یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب التشديد فى ترك الصلاة وكفر من تركها والنهي عن قتل فاعلها
باب نماز ترک کرنے کی شدید مذمت ‘ جو شخص اسے ترک کردے وہ کفر (کا مرتکب ہوتا) ہے تاہم ایسا کرنے والے کو قتل کرنا منع ہے
ترقیم العلمیہ : 1726 ترقیم الرسالہ : -- 1750
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حِينَ طُعِنَ، فَقَالَ: الصَّلاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّهُ لا حَظَّ فِي الإِسْلامِ لأَحَدٍ أَضَاعَ الصَّلاةَ"، فَصَلَّى عُمَرُ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا جا چکا تھا، انہوں نے عرض کی: ”امیر المؤمنین! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسے شخص کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے جو نماز ادا نہ کرے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز ادا کی، حالانکہ اس وقت ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب العيدين/حدیث: 1750]
ترقیم العلمیہ: 1726
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3692، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 117، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1703، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 870، 871، 1511، 1750، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 579، 580، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8474، 30998، 38222، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8181»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1750 in Urdu
المسور بن مخرمة القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي