سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب التشديد فى ترك الصلاة وكفر من تركها والنهي عن قتل فاعلها
باب نماز ترک کرنے کی شدید مذمت ‘ جو شخص اسے ترک کردے وہ کفر (کا مرتکب ہوتا) ہے تاہم ایسا کرنے والے کو قتل کرنا منع ہے
ترقیم العلمیہ : 1732 ترقیم الرسالہ : -- 1756
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، أنا هُودُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُعْجِبُنَا تَعَبُّدُهُ وَاجْتِهَادُهُ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاسْمِهِ، وَوَصَفْنَاهُ بِصِفَتِهِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ فَقُلْنَا: هُوَ هَذَا، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ لَتُخْبِرُونَ عَنْ رَجُلٍ عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ"، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَشَدْتُكَ اللَّهَ، هَلْ قُلْتَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ مَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلُ مِنِّي وَخَيْرٌ مِنِّي؟"، فَقَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ دَخَلَ يُصَلِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ؟"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أُقْتَلُ رَجُلا يُصَلِّي، وَقَدْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ"، فَخَرَجَ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا، جس کی عبادت و ریاضت ہمیں بہت پسند تھی، ہم نے اس شخص کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، ہم نے اس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہچان نہیں سکے، جب ہم نے اس کا حلیہ بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی اسے نہیں پہچان سکے، ابھی ہم اس شخص کا تذکرہ ہی کر رہے تھے کہ اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا، ہم نے عرض کی: یہ وہ شخص ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتا رہے ہو، جس کے چہرے پر شیطان کا نشان ہے۔“ پھر وہ شخص آگے آیا اور ان لوگوں کے پاس آ کر ٹھہر گیا، اس نے سلام نہیں کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں کہ کیا تم نے ابھی، جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے ہو، یہ سوچا ہے، اس وقت ان حاضرین میں کوئی بھی شخص مجھ سے زیادہ فضیلت والا اور مجھ سے بہتر نہیں ہے؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”اللہ جانتا ہے، ایسا ہی ہے۔“ پھر وہ شخص نماز پڑھنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اسے کون قتل کرے گا؟“ سیدنا ابوبکر نے عرض کی: ”میں!“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے، تو وہ نماز پڑھ رہا تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سوچا: ”سبحان اللہ! کیا میں ایسے شخص کو قتل کروں گا جو نماز ادا کر رہا ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آ گئے (اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب العيدين/حدیث: 1756]
ترقیم العلمیہ: 1732
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1756، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 90، 4143، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه البزار فى ((مسنده)) برقم: 7510»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥هود بن عطاء اليمامي هود بن عطاء اليمامي ← أنس بن مالك الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥موسى بن عبيدة الربذي، أبو عبد العزيز موسى بن عبيدة الربذي ← هود بن عطاء اليمامي | منكر الحديث | |
👤←👥محمد بن الزبرقان الأهوازي، أبو همام محمد بن الزبرقان الأهوازي ← موسى بن عبيدة الربذي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن الفرج الهاشمي، أبو جعفر محمد بن الفرج الهاشمي ← محمد بن الزبرقان الأهوازي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن سابور البغوي، أبو القاسم عبد الله بن سابور البغوي ← محمد بن الفرج الهاشمي | ثقة إمام ثبت حافظ |
Sunan al-Daraqutni Hadith 1756 in Urdu
هود بن عطاء اليمامي ← أنس بن مالك الأنصاري