Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب زكاة الإبل والغنم
باب اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1960 ترقیم الرسالہ : -- 1985
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخَذْنَا هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَذِهِ فَرَائِضُ صَدَقَةِ الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ يُسْأَلُهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلْيُعْطِهَا عَلَى وَجْهِهَا، وَمَنْ سُئِلَهَا عَلَى غَيْرِ وَجْهِهَا فَلا يُعْطِهَا، فِي كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فَبَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ جَذَعَةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِذَا بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِذَا بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عِنْدَهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطَى الْمُصَّدَّقَ مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهَا وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِي الْمُصَّدِّقُ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتِ الإِبِلُ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ، وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ وَاحِدَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسٌ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ، وَلا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِذَا نَقَصَتْ سَائِمَةُ الْغَنَمِ مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشُورِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ نقل کرتے ہیں: مسلمانوں کے زکوٰۃ ادا کرنے کے بارے میں یہ حکم نامہ ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا ہے، اہل ایمان میں سے جس شخص سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، وہ اس کے مطابق ادائیگی کر دے اور جس سے اس کے علاوہ کوئی مطالبہ کیا جائے، وہ دوسری کوئی ادائیگی نہ کرے، ہر چوبیس اونٹوں یا اس سے کم میں ہر پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری ہو گی، ٢٥ سے ٣٥ تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر بنت مخاض موجود نہ ہو، تو ابن لبون کی ادائیگی ہو گی جو مذکر ہو، پھر ٣٦ سے ٤٥ تک میں بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، پھر ٤٦ سے ٦٠ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٦١ سے ٧٥ تک میں جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٧٦ سے ٩٠ تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ٩١ سے ١٢٠ تک میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٢١ سے آگے یہ حکم ہو گا کہ ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی اور پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر اونٹوں کی عمر میں فرق آ جائے، تو جس شخص کے ذمے جذعہ کی ادائیگی بطور زکوٰۃ لازم ہو گی، تو اگر اس کے پاس جذعہ نہ ہو، بلکہ حقہ موجود ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا، اور وہ محض اس کے ساتھ دو بکریاں ادا کرے گا، اگر یہ ادا کرنا اس کے لیے ممکن ہو، یا پھر بیس درہم ادا کرے گا، اگر اس شخص کے ذمے حقہ کی ادائیگی لازمی تھی اور اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس جذعہ ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کر دے گا، جس شخص کے ذمے حقہ کی ادائیگی لازم تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، اس سے وہی وصول کر لی جائے گی اور وہ شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا، جس شخص نے بنت لبون ادا کرنا تھی اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو، بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے وہی وصول کر لی جائے گی اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا۔ اگر زکوٰۃ میں بنت لبون کی ادائیگی لازم تھی اور وہ اس شخص کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت مخاض ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا، جس شخص نے زکوٰۃ میں بنت مخاض ادا کرنی تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اس سے وہی وصول کی جائے گی، اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے دو بکریاں یا بیس درہم ادا کر دے گا۔ جس شخص کے ذمے زکوٰۃ میں بنت مخاض ادا کرنا تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس ابن لبون ہو جو مذکر ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز وصول نہیں کی جائے گی، جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو صدقہ کے طور پر) کوئی ادائیگی کر سکتا ہے، جب پانچ اونٹ ہو جائیں گے، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ بکریوں کے بارے میں حکم یہ ہے: ٤٠ سے ١٢٠ تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٢١ سے ٢٠٠ بکریوں میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، ٢٠٠ سے ٣٠٠ تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زکوٰۃ میں کوئی سینگ ٹوٹی ہوئی، کانی یا لنگڑی بکری ادا نہیں کی جائے گی، البتہ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا چاہے (تو ایسی جانور وصول کر سکتا ہے)، زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے الگ، الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو الگ، الگ نہیں کیا جائے گا، جو چیز دو لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابری کی بنیاد پر وصولی کی جائے گی، اگر بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو، تو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو اس سے کوئی ادائیگی کر سکتا ہے۔ غلاموں میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اصل قیمت کا اڑھائی فیصد) کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر کسی شخص کے پاس مال میں صرف ١٩٠ درہم ہوں، تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہو گا (البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو صدقے کے طور پر کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)۔ اس روایت کی سند مستند ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 1985]
ترقیم العلمیہ: 1960
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1448، 1450، 1451، 1453، 1454، 1455، 2487، 6955،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2261، 2273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3266، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1445، 1446، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، 2457، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2239، 2247، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1567، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1800، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 73»
«قال البيهقي: حديث صحيح موصول إلا أن بعض الرواة قصر به، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 335)»

الحكم على الحديث: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثمامة بن عبد الله الأنصاري
Newثمامة بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثمامة بن عبد الله الأنصاري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
👤←👥دعلج بن أحمد السجستاني، أبو محمد
Newدعلج بن أحمد السجستاني ← عبد الله بن محمد النيسابوري
ثقة مأمون