سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
19. باب زكاة مال التجارة وسقوطها عن الخيل والرقيق
باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
ترقیم العلمیہ : 1996 ترقیم الرسالہ : -- 2021
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالا خَيْلا وَرَقِيقًا، نُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ"، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيُّ، فَقَالَ:" هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدَكِ رَاتِبَةً" .
حارثہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ہمیں کچھ اموال حاصل ہوئے ہیں، جو گھوڑے ہیں اور غلام ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں، ان میں سے بھی ہم سے زکوٰۃ وصول کی جائے، تاکہ یہ پاک ہو جائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو کام نہیں کیا، میں وہ کروں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے یہ مشورہ لیا، ان اصحاب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ٹھیک ہے، اگر اسے ایسا جزیہ قرار نہ دیا جائے، جو آپ کے بعد بھی ان سے وصول کیا جاتا رہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 2021]
ترقیم العلمیہ: 1996
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2290، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 107، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1460، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7508، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2021، 2064، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 83، 223، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3045»
الرواة الحديث:
حارثة بن مضرب العبدي ← عمر بن الخطاب العدوي