سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
21. باب الحث على إخراج الصدقة وبيان قسمتها
باب صدقہ دینے کی ترغیب اور اس کی تقسیم کا طریقہ
ترقیم العلمیہ : 2041 ترقیم الرسالہ : -- 2066
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفُضَيْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثنا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، قَالَ:" مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ، فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّهِ عَافِيَتَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا، ثُمَّ تَلا هَذِهِ الآيَةَ: وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64" .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے: (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے) ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حلال قرار دیا ہے، وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام قرار دیا ہے، وہ حرام ہے اور جس چیز کے بارے میں کوئی حکم ذکر نہیں کیا، وہ عافیت ہے۔ تو تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی اس کی عافیت کو قبول کرو۔ اللہ تعالیٰ کوئی بات بھولتا نہیں ہے۔“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 2066]
ترقیم العلمیہ: 2041
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3439، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 19785، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2066، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4087»
الرواة الحديث:
رجاء بن حيوة الكندي ← عويمر بن مالك الأنصاري