🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب زكاة الفطر
باب: فطرے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2098 ترقیم الرسالہ : -- 2123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْخَيَّاطُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: أَعْطِنِي مُدَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِهِ، فَجَاءَ بِهِ الْغُلامُ، فَأَعْطَانِيهِ فَأَرَيْتُهُ مَالِكًا، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، هُوَ مُدُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، ثُمَّ قَالَ:" لَمْ أُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الَّذِي يَتَحَرَّى بِهِ مُدُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قُلْتُ: بِهَذَا تُعْطَى زَكَاةُ الْعُشُورِ وَالصَّدَقَاتُ وَالْكَفَّارَاتُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، نَحْنُ نُعْطِي بِهِ"، قُلْتُ: فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُعْطِيَ زَكَاةَ رَمَضَانَ وَكَفَّارَةَ الْيَمِينِ بِمُدٍّ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ هَذَا، قَالَ:" لا، وَلَكِنْ لِيُعْطِ بِهَذَا الْمُدِّ، ثُمَّ لِيَزِدْ بَعْدُ مَا شَاءَ" .
بشر بن عمر بیان کرتے ہیں: میں نے امام مالک سے درخواست کی کہ آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (مخصوص پیمانہ) عطا کریں، امام مالک نے وہ منگوایا، ایک غلام وہ لے کر آیا اور وہ اس نے انہیں دے دیا، میں نے امام مالک کو وہ دکھایا اور پوچھا: یہ وہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد ہے، پھر انہوں نے فرمایا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مخصوص پیمانہ نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود استعمال کرتے تھے، بلکہ یہ اس کی پیمائش کے مطابق پیمانہ ہے (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کیا آپ لوگ اپنی زکوٰۃ، صدقات، کفارات وغیرہ اسی کے ذریعے ادا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! ہم اسی کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں، میں نے کہا: ایک شخص صدقہ فطر دینا چاہتا ہے یا قسم کا کفارہ مد کے حساب سے دینا چاہتا ہے (جو اس سے بڑا ہوتا ہے، تو کیا وہ ادا ہو جائے گا)؟ انہوں نے کہا: نہیں! اسے چاہیے کہ وہ اس مد کے حساب سے ادائیگی کرے، پھر اس کے بعد جتنا مزید چاہے وہ دے دے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2123]
ترقیم العلمیہ: 2098
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7816، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2123، 2124»