🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب زكاة الفطر
باب: فطرے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2099 ترقیم الرسالہ : -- 2124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ الأَشْقَرِ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّائِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، كَمْ وَزْنُ صَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِالْعِرَاقِيِّ، أَنَا حَزَرْتُهُ"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، خَالَفْتَ شَيْخَ الْقَوْمِ، قَالَ:" مَنْ هُوَ؟"، قُلْتُ: أَبُو حَنِيفَةَ، يَقُولُ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ:" قَاتَلَهُ اللَّهُ، مَا أَجْرَأَهُ عَلَى اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ:" يَا فُلانُ، هَاتِ صَاعَ جَدِّكَ، وَيَا فُلانُ، هَاتِ صَاعَ عَمِّكَ، وَيَا فُلانُ، هَاتِ صَاعَ جَدَّتِكَ"، قَالَ إِسْحَاقُ: فَاجْتَمَعَتْ آصُعُ، فَقَالَ مَالِكٌ:" مَا تَحْفَظُونَ فِي هَذِهِ؟"، فَقَالَ: هَذَا حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّي بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الآخَرُ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَخِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّي بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الآخَرُ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا أَدَّتْ بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَالِكٌ:" أَنَا حَزَرْتُ هَذِهِ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا عَنْهُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ نِصْفُ صَاعٍ، وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ، فَقَالَ: هَذِهِ أَعْجَبُ مِنَ الأُولَى يُخْطِئُ فِي الْحَزْرِ، وَيُنْقِصُ فِي الْعَطِيَّةِ،" لا بَلْ صَاعٌ تَامٌّ عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ، هَذَا أَدْرَكْنَا عُلَمَاءَنَا بِبَلَدِنَا هَذَا" .
اسحاق بن سلمان بیان کرتے ہیں: میں نے امام مالک سے پوچھا: اے ابوعبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص صاع کا وزن کتنا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: عراقی رطل کے حساب سے پانچ رطل اور ایک رطل کا ایک تہائی حصہ، میں نے اسے ناپا ہے، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ نے اپنے زمانے کے بزرگ کے خلاف فتویٰ دیا ہے، انہوں نے دریافت کیا: وہ کون ہیں؟ میں نے کہا: امام ابوحنیفہ! کیونکہ وہ تو یہ کہتے ہیں یہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو امام مالک غصے میں آگئے اور بولے: اللہ تعالیٰ انہیں خراب کرے! انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیسی جرات کا مظاہرہ کیا ہے، پھر انہوں نے وہاں بیٹھے ہوئے افراد میں سے ایک صاحب سے کہا: اے فلاں! تم اپنے جد امجد کا صاع لے کر آؤ، اے فلاں! تم اپنے چچا کا صاع لے کر آؤ، اے فلاں! تم اپنی دادی کا صاع لے کر آؤ۔ اسحاق نامی راوی بیان کرتے ہیں: وہاں مختلف صاع اکٹھے ہوگئے، امام مالک نے فرمایا: تم لوگ اسے کس حساب سے محفوظ رکھتے ہو (یعنی اس کی نسبت کیا ہے)؟ تو ان صاحب نے بتایا: میرے والد نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے اس صاع کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کی تھی۔ دوسرے صاحب نے بتایا: میرے والد نے اپنے بھائی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے اس صاع کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کی تھی۔ تیسرے نے کہا: میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے اپنی والدہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے اس صاع کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کی تھی۔ امام مالک بیان کرتے ہیں: جب میں نے اس کو ماپا، تو یہ پانچ رطل اور ایک رطل کا ایک تہائی حصہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! میں آپ کو ان کے (یعنی امام ابوحنیفہ کے) حوالے سے اس سے بھی زیادہ حیران کن بات بتاتا ہوں، وہ یہ کہتے ہیں: صدقہ فطر میں نصف صاع ادائیگی کی جائے گی اور ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو امام مالک نے بتایا: یہ پہلے سے بھی زیادہ حیران کن بات ہے، انہوں نے اسے مانپے میں غلطی کی ہے اور ادائیگی میں کمی کر دی ہے، نہیں! ہر انسان کی طرف سے مکمل صاع ادا کیا جائے گا، ہم نے اپنے شہر (مدینہ منورہ) کے علماء کو یہی کہتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2124]
ترقیم العلمیہ: 2099
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7816، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2123، 2124»
«‏‏‏‏قال الشوكاني: هذه القصة مشهورة أخرجها البيهقي بإسناد جيد، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 6)»

الحكم على الحديث: صحيح