سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
17. باب قضاء الصوم
روزوں کی قضاء کا باب
ترقیم العلمیہ : 2300 ترقیم الرسالہ : -- 2334
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْهَرِ ، ثنا سَهْلُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو سَعِيدٍ السِّجِسْتَانِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَقْطِيعِ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَاهُ الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ حَتَّى يَقْضِيَهُ، هَلْ كَانَ ذَلِكَ قَضَاءُ دَيْنِهِ أَوْ قَاضِيهِ؟"، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْوَهُ. كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کے روزوں کی قضاء الگ الگ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو اور وہ درہم یا دو درہم ادا کر دے، یہاں تک کہ اسی طرح وہ سب ادا کر دے، تو کیا اس کے ذمے قرض کی ادائیگی لازم ہو گی یا اسے بل دینے والا شمار کیا جائے گا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! یہ روایت ابوزبیر کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2334]
ترقیم العلمیہ: 2300
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2334»
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري