سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
27. باب الوضوء بالنبيذ
باب: نبیذ کے ذریعے وضو کرنا
ترقیم العلمیہ : 233 ترقیم الرسالہ : -- 237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، نا أَبِي، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" النَّبِيذُ وُضُوءٌ إِذَا لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ" . قَالَ الأَوْزَاعِيُّ: " إِنْ كَانَ مُسْكِرًا فَلا يَتَوَضَّأُ بِهِ" . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: " كُلُّ شَيْءٍ تَحَوَّلَ عَنِ اسْمِ الْمَاءِ لا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتَوَضَّأَ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ" .
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ”جو شخص نبیذ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ پائے، وہ نبیذ کے ذریعے وضو کر سکتا ہے۔“ امام اوزاعی بیان کرتے ہیں: ”اگر وہ نبیذ نشہ آور ہو، تو آدمی اس کے ذریعے وضو نہیں کرے گا۔“ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: ”ہر وہ چیز جسے پانی نہ کہا جا سکے، اس کے بارے میں میرے نزدیک پسندیدہ رائے یہی ہے: آدمی اس کے ذریعے وضو نہ کرے، اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے: آدمی نبیذ کے ذریعے وضو کرنے کی بجائے تیمم کرے۔“ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 237]
ترقیم العلمیہ: 233
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 31، 32، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 234، 235، 236، 237، 238، 239، 240، 241، 242، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 5395، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 266»
Sunan al-Daraqutni Hadith 237 in Urdu