سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
19. باب ما جاء فى رمي الجمرة والتعجيل من جمع والتطيب قبل الإفاضة
باب:
ترقیم العلمیہ : 2647 ترقیم الرسالہ : -- 2684
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ، مَسْجِدَ مِنًى، يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ وَيَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّالِثَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
زہری بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کو کنکریاں ماریں، جو مسجد منی کے قریب ہے، تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ہر ایک کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ اس جمرہ کے آگے آئے اور بیت اللہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا مانگنا شروع کی، آپ خاصی دیر وہاں کھڑے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمرہ کے پاس تشریف لائے اور اسے بھی سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ تھوڑا سا بائیں طرف ہٹ گئے، جو وادی والا حصہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیت اللہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا مانگنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرے جمرہ کے پاس تشریف لے گئے، جو عقبہ کے پاس ہے، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے، پھر آپ نے اس کے پاس وقوف نہیں کیا۔ زہری نے یہ بات بیان کی ہے: میں نے سالم بن عبداللہ کو اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2684]
ترقیم العلمیہ: 2647
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1751، 1752، 1753، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 750،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3085، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1944، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3032، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2684، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6052»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2684 in Urdu
يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري