سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
29. ما جاء فى المحرم يؤذيه قمل رأسه
باب: حاجی کے سر میں جوؤں کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2743 ترقیم الرسالہ : -- 2780
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ لَهُ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ يَهْدِي شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، یہ حدیبیہ کے مقام کی بات ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ سر منڈوا لیں، حالانکہ وہ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر موجود تھے اور نبی نے ابھی لوگوں کے سامنے یہ بات بیان نہیں کی تھی کہ وہ یہیں احرام کھول لیں گے، کیونکہ لوگ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں، تو اللہ نے فدیہ کا حکم نازل کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ایک فرق چھ غریبوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھ لیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2780]
ترقیم العلمیہ: 2743
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1201،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 884، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2676،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3978، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2854، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 953، 2973، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3079، 3080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18388»
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← كعب بن عجرة الأنصاري