سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب
باب بلاعنوان
ترقیم العلمیہ : 2790 ترقیم الرسالہ : -- 2827
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ كَانَ تَاجِرًا، وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " عَنْ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ" ،.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا، ان کا نام شہر تھا، وہ تاجر تھا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، جب تک کوئی دوسرا شخص اسے چھوڑ نہ دے، البتہ مال غنیمت کا اور وراثت کا حکم مختلف ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2827]
ترقیم العلمیہ: 2790
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1412، 1517، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1041، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4047، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3241، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1292، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1868، 2171، 2179، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2826، 2827، 2828، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4619»
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← عبد الله بن عمر العدوي