سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. باب الصلح
باب: صلح کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2865 ترقیم الرسالہ : -- 2901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمْرِو بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ ، وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُ قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ، فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ" .
ابن خلدہ زرقی، جو مدینہ منورہ کے قاضی تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ وہ مسئلہ ہے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے: ”جو شخص فوت ہو جائے یا مفلس قرار دے دیا جائے اور پھر کسی سامان کا مالک بعینہ اپنے سامان کو اس کے پاس پائے، تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2901]
ترقیم العلمیہ: 2865
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2402، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1559، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4681، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3519، 3520، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1262، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2632، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2900، 2901، 2902، 2903، 2904، 2905، 2906، 2907، 4546، 4547، 4548، 4549، 4550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7245، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1065، 1066»
«أبو المعتمر مجهول على ما ذكره أبو داود، المفهم لما أشكل من تلخيص مسل
«أبو المعتمر مجهول على ما ذكره أبو داود، المفهم لما أشكل من تلخيص مسل
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عمر بن خلدة الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي