علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2934 ترقیم الرسالہ : -- 2966
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ دَعَاهُ رَجُلٌ فَأَشْهَدَهُ عَلَى وَصِيَّةٍ فَإِذَا هُوَ قَدْ آثَرَ بَعْضَ وَلَدِهِ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْهَدَ عَلَى جَوْرٍ، وَقَالَ: مَنْ شَهِدَ عَلَى جَوْرٍ فَهُوَ شَاهِدُ زُورٍ، ثُمَّ أَسْرَعَ الْمَشْيَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک شخص نے انہیں بلایا اور اپنی وصیت کے بارے میں انہیں گواہ بنانا چاہا، تو اس نے وصیت میں اپنی بعض اولاد کو دوسری اولاد پر ترجیح دی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم کسی زیادتی کے کام میں گواہ بنیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی زیادتی کے کام پر گواہ بنتا ہے، وہ جھوٹے گواہ کی مانند ہوتا ہے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تیزی سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2966]
ترقیم العلمیہ: 2934
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2966، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2966 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي