یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2950 ترقیم الرسالہ : -- 2982
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِجْلاءِ بَنِي النَّضِيرِ، قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ،" إِنَّ لَنَا دُيُونًا عَلَى النَّاسِ، قَالَ: ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلاوطن کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! ہم نے لوگوں سے کچھ قرض لیے ہیں۔“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں معاف کر دو اور جلدی سے یہاں سے چلے جاؤ۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2982]
ترقیم العلمیہ: 2950
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2338، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11256، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2980، 2981، 2982، 2983، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4277، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 817، 6755»
«قال الدارقطني: مسلم بن خالد ثقة إلا أنه سيئ الحفظ وقد اضطرب في هذا الحديث، سنن الدارقطني: (3 / 466) برقم: (2983)»
«قال الدارقطني: مسلم بن خالد ثقة إلا أنه سيئ الحفظ وقد اضطرب في هذا الحديث، سنن الدارقطني: (3 / 466) برقم: (2983)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2982 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي