سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. باب الخراج بالضمان
باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ترقیم العلمیہ : 2990 ترقیم الرسالہ : -- 3023
ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حِينَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ لِيَفْتَحَهَا، قَالَ لأَبِي هُرَيْرَةَ: اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، أَجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا كَأَنَّمَا كَانُوا عَلَى مِيعَادٍ، ثُمَّ قَالَ: اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ وَلا يَشْرُفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلا أنَمْتُمُوهُ، يَقُولُ: قَتَلْتُمُوهُ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي الصَّفَا، فَصَعِدَ الصَّفَا فَخَطَبَ النَّاسَ، وَالأَنْصَارُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْوَحْيَ بِمَا قَالَتِ الأَنْصَارُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، تَقُولُونَ: فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَأْفَةٌ بِقَوْمِهِ وَرَغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ، قَالَ: فَمَنْ أَنَا إِذًا، كَلا وَاللَّهِ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَقًّا، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قُلْنَا ذَلِكَ إِلا مَخَافَةَ أَنْ تُفَارِقَنَا، قَالَ: أَنْتُمْ صَادِقُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا مِنْهُمْ إِلا مَنْ قَدْ بَلَّ نَحْرَهُ بِالدُّمُوعِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے، تو آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انصار کو بلا کر لاؤ!“ تو انہوں نے اعلان کیا: ”اے انصار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔“ انصار آئے، یوں جیسے وہ پہلے سے طے شدہ ملاقات کے تحت آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس راستے پر چلو، جو بھی تمہارے سامنے آنے کی کوشش کرے، تم اسے قتل کر دو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، اللہ نے انہیں فتح نصیب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی، پھر اس دروازے سے باہر نکلے، جو صفا (پہاڑی) کے قریب تھا، پھر آپ صفا پر چڑھے، آپ نے لوگوں سے خطاب کیا، اس وقت (انصار) پہاڑی کے زیریں حصے میں تھے، ان میں سے کسی نے اپنے ساتھی سے کہا: ”اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔“ تو انصار کے لوگوں نے جو یہ بات کہی تھی، اللہ نے وحی کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار! تم نے یہ کہا ہے: اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟ اللہ کی قسم! میں واقعی اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں، میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے۔“ انصار نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے یہ بات صرف اس اندیشے کے تحت کہی تھی کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے علیحدگی اختیار نہ کر لیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں تم لوگ سچے ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس وقت ان میں سے ہر ایک شخص کے آنسو بہتے ہوئے اس کی گردن تک آ رہے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3023]
ترقیم العلمیہ: 2990
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1780،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2758،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4760، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2341، 2898، والنسائى فى ((الكبریٰ)) برقم: 11234، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1871، 1872، 3024، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3023، 3024، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8037»
الرواة الحديث:
عبد الله بن رباح الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي