سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
35. باب تثليث المسح
باب: تین مرتبہ مسح کرنے کی دلیل
ترقیم العلمیہ : 298 ترقیم الرسالہ : -- 303
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَرْدَانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ حُمْرَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِوُضُوءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا، وَوَجْهَهُ ثَلاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا، وَقَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ هَكَذَا، وَقَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَجْزَأَهُ" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے اور یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، انہوں نے یہ بھی فرمایا: ’جو شخص اس سے کم وضو کرے تو ایسا کرنا بھی جائز ہو گا۔‘“ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 303]
ترقیم العلمیہ: 298
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 226، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 83، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2، 3، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 360، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 529، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 84، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 31، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 285، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 271، 283، 284، 285، 286، 287، 301، 302، 303، 304، 308، 367، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 35، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 407»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
حمران بن أبان النمري ← عثمان بن عفان