🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الجعالة
باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3044 ترقیم الرسالہ : -- 3077
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو بَكْرٍ وَرَّاقٌ الْحُمَيْدِيُّ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ، ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ،" إِنِّي قَدْ وَرَدَتْ عَلَى الْمِلْحِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهِيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مِلْحٌ، وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ، فَاسْتَقَالَ أَبْيَضُ فِي قَطِيعَةِ الْمِلْحِ، فَقَالَ أَبْيَضُ: قَدْ أَقَلْتُكَ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ، وَهَذَا مثل الْمَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ، قَالَ: فَقَطَعَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخِيلا بِالْجُرُفِ، جُرُفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ فِيهِ" ، قَالَ فَرَجٌ: فَهُوَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ.
ثابت بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ قطعہ اراضی مانگا، جسے ملح شذا کہا جاتا تھا اور یہ مارب میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قطعہ اراضی انہیں عطا کر دیا، پھر اقرع بن حابس تمیمی نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں زمانہ جاہلیت میں ملح نامی جگہ گیا تھا، وہ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں نمک نہیں ہے، جو شخص وہاں پہنچ جائے، وہ اسے حاصل کر سکتا ہے، اس کی مثال اس بہتے ہوئے پانی کی ہے، جس کا بہاؤ ختم نہیں ہوتا۔ پھر اقرع نے ملح کے قطعہ اراضی کے بارے میں ابیض سے اقالہ کی فرمائش کی، تو سیدنا ابیض نے کہا: میں اس میں شرط پر تمہارے ساتھ اقالہ کرتا ہوں کہ تم اسے میری طرف سے صدقے کے طور پر استعمال کرو گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے، اس کی مثال چشمے سے بہتے ہوئے پانی کی ہے، جو شخص اس تک پہنچ جائے گا، وہ اسے استعمال کرے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جرف کے مقام پر کچھ زمین اور کھجور کا باغ عنایت کیا تھا، اس سے مراد جرف مراد ہے، یہ عطا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کی، جب انہوں نے اس میں اقالہ کر لیا۔ فرج بن سعید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: اس کی بھی یہی صورت تھی، جو اس تک پہنچ جائے گا، وہ اسے حاصل کر لے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3077]
ترقیم العلمیہ: 3044
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4499، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1282، 1283، 1284، 1285، 1286، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3064، 3066، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1380، 1380 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2650، 2653، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3077، 4520، 4521، 4608»

الحكم على الحديث: ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبيض بن حمال المأربيصحابي
👤←👥سعيد بن أبيض المرادي، أبو هانئ
Newسعيد بن أبيض المرادي ← أبيض بن حمال المأربي
مقبول
👤←👥ثابت بن سعيد المأربي
Newثابت بن سعيد المأربي ← سعيد بن أبيض المرادي
مقبول
👤←👥فرج بن سعيد المأربي، أبو روح
Newفرج بن سعيد المأربي ← ثابت بن سعيد المأربي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحميدي عبد الله بن الزبير، أبو بكر
Newالحميدي عبد الله بن الزبير ← فرج بن سعيد المأربي
ثقة حافظ أجل أصحاب ابن عيينة
👤←👥محمد بن إدريس الوراق، أبو بكر
Newمحمد بن إدريس الوراق ← الحميدي عبد الله بن الزبير
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن محمد الفقيه، أبو بكر
Newعبد الله بن محمد الفقيه ← محمد بن إدريس الوراق
ثقة حافظ