🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ الْجَعَالَةِ
باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3001 ترقیم الرسالہ : -- 3034
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةِ ثَلاثِينَ رَاكِبًا، قَالَ: فَنَزَلْنَا عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا، قَالَ: فَلُدِغَ سَيِّدُ الْحَيِّ فَأَتَوْنَا، فَقَالُوا: أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا، وَلَكِنْ لا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا، فَقَالُوا: فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلاثِينَ شَاءً، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ، قَالَ: فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ، قَالَ: فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: وَمَا عِلْمُكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، فَاقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ" ،.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تیس سواروں کو ایک مہم پر روانہ کیا، ہم نے ایک عرب قبیلے (کی بستی) کے پاس پڑاؤ کیا، ہم نے ان سے مہمان نوازی کی درخواست کی، تو انہوں نے انکار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا، وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور دریافت کیا: کیا آپ میں سے کوئی شخص بچھو کے کاٹنے کا دم کر سکتا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: ہاں، میں کر سکتا ہوں، لیکن میں ایسا اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک تم لوگ ہمیں (اس کا معاوضہ) ادا نہیں کرو گے۔ انہوں نے کہا: ہم آپ لوگوں کو (اس کے معاوضے میں) تیس بکریاں دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس شخص پر سورہ فاتحہ سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا، جب ہم نے وہ بکریاں وصول کیں، تو ہمیں اس بارے میں کچھ الجھن محسوس ہوئی، ہم نے ان بکریوں کا گوشت استعمال نہیں کیا، پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے دریافت کیا: تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟ (میں نے جواب دیا: آپ نے بتایا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3034]
ترقیم العلمیہ: 3001
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3002 ترقیم الرسالہ : -- 3035
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا: نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم شعبہ نامی راوی نے اس میں کچھ مختلف نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3035]
ترقیم العلمیہ: 3002
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3003 ترقیم الرسالہ : -- 3036
ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ،" أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا حَيًّا مِنَ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ، فَقَالُوا: أَفِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ؟، فَقَالُوا: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا فَلا نَفْعَلُ أَوْ تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلا، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: لا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَضَحِكَ، وَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ رُقْيَةٌ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کسی عرب قبیلے کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے ان حضرات کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان لوگوں کے سردار کو کسی (زہریلے جانور نے) کاٹ لیا، ان لوگوں نے دریافت کیا کہ آپ کے پاس اس کی کوئی دوا ہے یا کوئی دم کرنے والا ہے؟ تو ان حضرات نے کہا: تم لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے ہم تو ایسا نہیں کریں گے، یا پھر یہ ہے کہ تم اس کا ہمیں معاوضہ ادا کرو۔ تو ان لوگوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ معاوضہ مقرر کیا، تو انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کی، وہ اپنا لعاب منہ میں اکٹھا کرتے اور (جانور کی کاٹی ہوئی جگہ) پر ڈال دیتے، تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا، وہ لوگ بکریاں لے کر ان کے پاس آئے (تو ان میں سے بعض حضرات نے) یہ کہا: ہم انہیں اس وقت تک (استعمال نہیں کریں گے)، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ نے فرمایا: تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کے ذریعے دم بھی ہوتا ہے؟ تم انہیں استعمال کرو اور ان میں میرا حصہ بھی رکھو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3036]
ترقیم العلمیہ: 3003
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3004 ترقیم الرسالہ : -- 3037
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةَ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ قَنَّةَ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ سَرِيَّةً عَلَيْهَا أَبُو سَعِيدٍ، فَمَرَّ بِقَرْيَةٍ فَإِذَا مَلِكُ الْقَرْيَةِ لَدِيغٌ، فَسَأَلْنَاهُمْ طَعَامًا فَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُنْزِلُونَا، فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يُحْسِنُ أَنْ يَرْقِيَ؟ إِنَّ الْمَلِكَ يَمُوتُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَيْتُهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَأَفَاقَ وَبَرَأَ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِالنُّزُلِ وَبَعَثَ إِلَيْنَا بِالشَّاءِ، فَأَكَلْنَا الطَّعَامَ أَنَا وَأَصْحَابِي، وَأَبَوْا أَنْ يَأْكُلُوا مِنَ الْغَنَمِ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَيْءٌ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي، قَالَ: فَكُلُوا وَأَطْعِمُونَا مِنَ الْغَنَمِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، جس کے امیر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے، ان کا گزر ایک بستی پر سے ہوا، جس کے امیر کو کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا تھا، ہم نے ان لوگوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ہمیں کھانے کے لیے انکار کر دیا، ہمیں پڑاؤ بھی نہیں کرنے دیا (ہم نے بستی سے باہر پڑاؤ کیا)، اس بستی کا ایک فرد ہمارے پاس سے گزرا، تو بولا: اے اہل عرب! کیا تم میں سے کسی شخص کو دم کرنا آتا ہے؟ ہمارا سردار مر رہا ہے۔ تو سیدنا ابوسعید خدری نے فرمایا: میں اس کے پاس آیا اور میں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا، ان لوگوں نے ہماری طرف کھانے کا سامان بھیجا اور بکریاں بھیجیں، میں نے اور میرے ساتھیوں نے کھانا کھا لیا، لیکن میرے ساتھیوں نے ان بکریوں (کو ذبح کرنے یا ان کا گوشت کھانے سے) انکار کر دیا، یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے دریافت کیا: تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بات میرے ذہن میں آ گئی تھی۔ تو نبی نے فرمایا: تم ان بکریوں (کا گوشت) کھاؤ اور اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3037]
ترقیم العلمیہ: 3004
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3005 ترقیم الرسالہ : -- 3038
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ ، نَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ثُمّ قَالَ:" بَيْنَمَا رَكْبٌ فِيهِمْ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ زَعِيمَ الْحَيِّ لَسَلِيمٌ يَعْنِي لَدِيغًا، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: بِمَ رَقَيْتَهُ؟ قَالَ: رَقَيْتُهُ بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا؟ فَلَمْ يَقْرَبُوا شَيْئًا مِمَّا أَصَابَ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، فَحَدَّثَهُ الرَّجُلُ بِمَا صَنَعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟، يَعْنِي أُمَّ الْكِتَابِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، أُخْرِجَ فِي الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ کچھ صحابہ کرام کہیں جا رہے تھے، ایک شخص ان کے سامنے آیا اور بولا: اس قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا ہے، کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟ تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے، انہوں نے سردار پر دم کیا، اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی، پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: آپ نے کس چیز کے ذریعے دم کیا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کیا تھا۔ تو ان ساتھیوں نے کہا: آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے؟ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا، جو انہیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: یا رسول اللہ! اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔ تو ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جو انہوں نے کیا تھا (یعنی سورہ فاتحہ کا دم کیا تھا)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟ یعنی سورہ فاتحہ کا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم جس بھی چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو، اس میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے۔ یہ حدیث صحیح میں نقل کی گئی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3038]
ترقیم العلمیہ: 3005
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5737، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5146، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2051، 11791، 14513، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3038، 3039»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3006 ترقیم الرسالہ : -- 3039
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الأَحْوَلُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ، فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَانْطَلَقْتُ فَرَقَيْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، هَذَا صَحِيحٌ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ الْبَرَاءِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزرے، جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا تھا، کہا: کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟ تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے، انہوں نے سردار پر دم کیا، اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی، پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: آپ نے کس چیز کے ذریعے دم کیا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کیا تھا۔ تو ان ساتھیوں نے کہا: آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے؟ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا، جو انہیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: یا رسول اللہ! اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔ تو ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: یا رسول اللہ! ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے، جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا تھا، میں گیا اور میں نے معاوضے کے طور پر بکریاں (وصول کرنے کی) شرط پر اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر دم کر دیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جس چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو، ان میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا بن مضارب کے حوالے سے ابومعشر سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3039]
ترقیم العلمیہ: 3006
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5737، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5146، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2051، 11791، 14513، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3038، 3039»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3007 ترقیم الرسالہ : -- 3040
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ، قَالَ:" قُدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ، فَأَمَرَنِي بِبَيْعِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا وَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَدْرِكْهُمَا فَارْتَجِعْهُمَا وَبِعْهُمَا جَمِيعًا وَلا تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے، آپ نے مجھے ان میں سے دو بھائیوں کو فروخت کرنے کا حکم دیا، میں نے انہیں فروخت کرتے ہوئے انہیں جدا کر دیا (یعنی دو الگ الگ آدمیوں کو فروخت کیا)، جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے فرمایا: تم ان کے پاس جاؤ اور ان دونوں کو واپس لو، ان دونوں کو ایک ساتھ فروخت کرو، ان میں جدائی نہ ڈالو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3040]
ترقیم العلمیہ: 3007
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 626، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 651، 652، 653، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2344، 2345، 2589، 2590، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2696، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1284، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2249،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3040، 3041، 3042، 4255، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 771، 814، 1060»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3008 ترقیم الرسالہ : -- 3041
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ، قَالَ:" وَهْبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا فَعَلَ الْغُلامَانِ؟، قُلْتُ: بِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ: رُدَّهُ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کیے، جو دونوں بھائی تھے، میں نے ان دونوں میں سے ایک کو فروخت کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے غلاموں کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کر دیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: تم اسے واپس لو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3041]
ترقیم العلمیہ: 3008
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 626، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 651، 652، 653، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2344، 2345، 2589، 2590، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2696، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1284، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2249،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3040، 3041، 3042، 4255، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 771، 814، 1060»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3009 ترقیم الرسالہ : -- 3042
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ . ح وثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا: نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي خَالِدٍ الدُلانِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ، أَنَّهُ بَاعَ فَفَرَّقَ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَابْنِهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدَّهُ" .وَقَالَ عُثْمَانُ:" إِنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَرَدَّ الْبَيْعَ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے فروخت کرتے ہوئے ایک عورت اور اس کے بیٹے کو الگ کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس سودے کو کالعدم کر دیں۔ عثمان نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے ایک کنیز اور اس کے بیٹے کے درمیان علیحدگی کر دی تھی، تو نبی نے انہیں اس سے منع کیا، تو انہوں نے وہ سودا کالعدم کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3042]
ترقیم العلمیہ: 3009
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 626، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 651، 652، 653، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2344، 2345، 2589، 2590، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2696، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1284، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2249،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3040، 3041، 3042، 4255، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 771، 814، 1060»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3010 ترقیم الرسالہ : -- 3043
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِسَبْيٍ، فَيُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ كَمَا هُمْ لا يُفَرِّقُ بَيْنَهُمْ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب قیدی لائے جاتے، تو آپ پورا گھر انہی (کسی کو) دے دیا کرتے تھے، جیسے وہ لوگ پہلے ہوتے تھے، آپ ان کے درمیان علیحدگی نہیں کرواتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3043]
ترقیم العلمیہ: 3010
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2248، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18391، 18392، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3043، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3765، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 286، 398، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 2007، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 15315، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23265، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10201، 10359»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں