پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب الجعالة
باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3047 ترقیم الرسالہ : -- 3080
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ، وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو خَالِدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْقُرَشِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ :" أَلا أُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَوْ أَمَةً، لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ، وَلا خِبْثَةَ، بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ" ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ: فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا:" هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أُمَّةً"، شَكَّ عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ" لا دَاءَ بِهِ، وَلا خِبْثَةَ، وَلا غَائِلَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ".
ابوہب بیان کرتے ہیں: سیدنا عداء بن خالد نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ تحریر پڑھ کر سناؤں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی؟ (اس کے یہ الفاظ ہیں): ”یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا، جس میں کوئی بیماری نہیں ہے، کوئی دھوکا نہیں ہے، کوئی خرابی نہیں ہے، یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: پھر انہوں نے میرے سامنے یہ تحریر نکالی: ”یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا (یہاں عباد نامی راوی کو شک ہے)، جس میں کوئی بیماری نہیں ہے، کوئی دھوکا نہیں ہے، کوئی خرابی نہیں ہے، یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3080]
ترقیم العلمیہ: 3047
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1104، والنسائى فى ((الكبریٰ)) برقم: 11688، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1216، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10894، 10895، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3080، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 1605، 1606، 1607، 1608، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 15»
«قال ابن حجر: سنده حسن، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 365)»
«قال ابن حجر: سنده حسن، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 365)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 3080 in Urdu
عبد المجيد بن أبي يزيد العامري ← العداء بن خالد القيسي