یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3208 ترقیم الرسالہ : -- 3249
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كِتَابَانِ: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عُتُوًّا فِي الأَرْضِ، رَجُلٌ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَرَجُلٌ تَوَلَّى غَيْرَ أَهْلِ نِعْمَتِهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَقَدْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ، لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلا عَدْلا، وَفِي الآخَرِ: الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، وَلا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ" ، مُخْتَصَرٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضے میں یہ دو باتیں پائی گئی تھیں: ”زمین میں سب سے زیادہ نافرمان شخص وہ ہے، جو اپنے مارنے والے کے علاوہ کسی دوسرے کو مار دے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) جو اپنے قتل کرنے والے کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے، اور وہ شخص جو اپنے آقا کی بجائے خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرے، جو شخص ایسا کرے گا، اس نے گویا اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا، اللہ ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ (دوسری بات یہ ہے:) اہل ایمان کی جان یکساں حیثیت کی حامل ہے اور ان کے عام فرد کی دی ہوئی پناہ کا احترام کیا جائے گا، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، اور کسی معاہد (ذمی) کو قتل نہیں کیا جائے گا اور دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔“ (یہ روایت مختصر ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3249]
ترقیم العلمیہ: 3208
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8116، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16020، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3249، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4757، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1548، 1555، 1793، 1903»
«قال البيهقي: ليس فيها شيء على شرط الصحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 188)»
«قال البيهقي: ليس فيها شيء على شرط الصحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 188)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 3249 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق