الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3209 ترقیم الرسالہ : -- 3250
نَا نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ،" أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" نَهَى أَصْحَابَهُ أَنْ يَبْسُطُوا عَلَى الْخَوَارِجِ حَتَّى يُحْدِثُوا حَدَثًا، فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ فَأَخَذُوهُ فَانْطَلَقُوا بِهِ، فَمَرُّوا عَلَى تَمْرَةٍ سَاقِطَةٍ مِنْ نَخْلَةٍ فَأَخَذَهَا بَعْضُهُمْ فَأَلْقَاهَا فِي فَمِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ: تَمْرَةُ مُعَاهَدٍ فِيمَ اسْتَحْلَلْتَهَا؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ: أَفَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعْظَمُ حُرْمَةً عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنَا، فَقَتَلُوهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَنْ أَقِيدُونَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالُوا: كَيْفَ نَقِيدُكَ بِهِ وَكُلُّنَا قَتَلَهُ؟، قَالَ: وَكُلُّكُمْ قَتَلَهُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يَبْسُطُوا عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لا يُقْتَلُ مِنْكُمْ عَشْرَةٌ، وَلا يَنْفَلِتُ مِنْهُمْ عَشَرَةٌ، قَالُوا: فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ: فَقَالَ: اطْلُبُوا مِنْهُمْ ذَا الثُّدَيَّةِ" ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو اس بات سے منع کیا تھا کہ وہ خوارج کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں، ان لوگوں کا گزر عبداللہ بن خباب کے پاس سے ہوا، تو ان لوگوں نے اسے پکڑ لیا، اور اسے لے کر روانہ ہوئے، ان کا گزر ایک کھجور کے پاس سے ہوا، جو درخت سے نیچے گری ہوئی تھی، ان میں سے ایک شخص نے کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، تو دوسرے شخص نے اسے کہا: ”تم نے معاہد کی کھجور کھا لی، تم نے کس بنیاد پر اسے حلال قرار دیا؟“ تو عبداللہ بن خباب نے کہا: ”کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں، جو تمہارے لیے اس سے زیادہ قابل احترام ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ تو عبداللہ بن خباب نے کہا: ”میں وہ ہوں۔“ پھر ان لوگوں نے عبداللہ بن خباب کو قتل کر دیا، اس بات کی اطلاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے لوگوں کو پیغام بھیجا: ”تم ہمیں عبداللہ بن خباب کی دیت ادا کرو۔“ تو انہوں نے جواب دیا: ”ہم اس کی دیت آپ کو کیسے ادا کریں، جب کہ ہم میں سے ہر ایک شخص نے اسے قتل کیا ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم سب لوگوں نے اسے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ اکبر!“ پھر آپ نے یہ حکم دیا کہ (آپ کے ساتھی) ان لوگوں پر بھرپور حملہ کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے دس افراد بھی شہید نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس افراد بھی زندہ نہیں بچیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سب لوگوں کو قتل کروا دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: ”ان میں ابھرے ہوئے گوشت والے کو تلاش کرو۔“ اس کے بعد راوی نے پورا واقعہ ذکر کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3250]
ترقیم العلمیہ: 3209
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1066،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6938، 6939، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8712، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4763، 4768، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 167،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3250، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 59، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 636»
الرواة الحديث:
لاحق بن حميد السدوسي ← علي بن أبي طالب الهاشمي