الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3276/2 ترقیم الرسالہ : -- 3321
قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ وَبَرَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: أَرْسَلَنِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى عُمَرَ، فَأَتَيْتُهُ وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَعَلِيُّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَهُمْ مَعَهُ مُتَّكِئُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ:" إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلامُ، وَيَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ انْهَمَكُوا فِي الْخَمْرِ، وَتَحَاقُّوا الْعُقُوبَةَ فِيهِ، فَقَالَ عُمَرُ: هُمْ هَؤُلاءِ عِنْدَكَ فَسَلْهُمْ، فَقَالَ عَلِيُّ:" نَرَاهُ إِذَا سَكِرَ هَذِيَ، وَإِذَا هَذِيَ افْتَرَى، وَعَلَى الْمُفْتَرِي ثَمَانِينَ"، فَقَالَ عُمَرُ: أَبْلِغْ صَاحِبَكَ مَا قَالَ، قَالَ: فَجَلَدَ خَالِدٌ ثَمَانِينَ جَلْدَةً، وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِيَ بِالرَّجُلِ الضَّعِيفِ الَّذِي كَانَتْ مِنْهُ الذِّلَّةُ ضَرَبَهُ أَرْبَعِينَ، قَالَ: وَجَلَدَ عُثْمَانُ أَيْضًا ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ.
ابن وبرہ کلبی بیان کرتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ کہتے ہیں: جب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا، تو اس وقت ان کے پاس سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، یہ سب لوگ مسجد میں ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا: ”سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، انہوں نے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ گزارش کی ہے: لوگ شراب زیادہ پینے لگے ہیں اور وہ اس کی سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ حضرات یہاں تمہارے سامنے تشریف فرما ہیں، تم ان سے اس بارے میں دریافت کرو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمارا یہ خیال ہے کہ جب (شراب پینے والا شخص) مدہوش ہو گا، تو ہذیان بکے گا اور ہذیان بکے گا، تو افتراء (زنا کا جھوٹا الزام) لگائے گا اور افتراء کی سزا اسی کوڑے ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انہوں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے جو کہا ہے، وہ اپنے صاحب (سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) تک پہنچا دینا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے کسی کمزور شخص کو لایا جاتا، جس نے یہ جرم کیا ہوتا، تو وہ اسے چالیس کوڑے لگواتے تھے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی (کسی کو) اسی اور (کسی کو) چالیس کوڑے لگواتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3321]
ترقیم العلمیہ: 3276/2
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17619، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3321»