سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3308 ترقیم الرسالہ : -- 3354
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ قَالَ:" لَمَّا حَجَّ عُمَرُ حَجَّتَهُ الأَخِيرَةَ الَّتِي لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلا فِي بَنِي وَادِعَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا قَضَى النُّسُكَ، فَقَالَ لَهُمْ: هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلا مِنْكُمْ؟، قَالَ الْقَوْمُ: لا، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ، فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللَّهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ، وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ، وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ، أَنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ، وَلا عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلا، فَحَلَفُوا بِذَلِكَ، فَلَمَّا حَلَفُوا، قَالَ: أَدُّوا دِيَتِهِ مُغَلَّظَةً فِي أَسْنَانِ الإِبِلِ، أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: سِنَانٌ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَجْزِينِي يَمِينِي مِنْ مَالِي؟، قَالَ: لا، إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ" ، عُمَرُ بْنُ صُبَيْحٍ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخری مرتبہ حج کیا، جس کے بعد انہیں حج کرنے کا موقع نہیں ملا، تو اس حج کے دوران بنو وداعہ کے رہائشی علاقے میں ایک مسلمان شخص مقتول پایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، یہ حج ادا کر لینے کے بعد ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارے درمیان سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے پچاس ہزار افراد کو لیا، اور انہیں حطیم میں کھڑا کر دیا، اور ان سے یہ قسم لی: ”اللہ کے نام کی قسم، جو اس حرمت والے گھر کا پروردگار ہے، اس حرمت والے شہر کا پروردگار ہے، اس حرمت والے مہینے کا پروردگار ہے، تم لوگوں نے اسے قتل نہیں کیا، اور تمہیں اس کے قاتل کے بارے میں بھی علم نہیں ہے۔“ ان لوگوں نے یہ قسم اٹھائی، جب ان لوگوں نے یہ قسم اٹھا لی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم یا تو اونٹوں کے حساب سے اس شخص کی دیت مغلظہ ادا کر دو، درہم دینار کے حساب سے ایک مکمل دیت اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرو۔“ تو ان میں سے ایک شخص، جس کا نام سنان تھا، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”جب ہم نے قسم اٹھا لی ہے، تو کیا یہ اس ادائیگی کی جگہ کافی نہیں ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تمہارے بارے میں تمہارے نبی کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔“ تو ان لوگوں نے دیناروں کے حساب سے ایک مکمل دیت ادا کی اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرنے کو اختیار کیا۔ اس روایت کا راوی عمر بن صبح متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3354]
ترقیم العلمیہ: 3308
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3354، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: عمر بن صبيح متروك الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 394)»
«قال الدارقطني: عمر بن صبيح متروك الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 394)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
سعيد بن المسيب القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي