سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3318 ترقیم الرسالہ : -- 3364
وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، مِنْهَا عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ" ، هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ غَيْرُ ثَابِتٍ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ، مِنْ وُجُوهٍ عِدَّةٍ أَحَدُهَا أَنَّهُ مُخَالِفٌ لَمَّا رَوَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِالسَّنَدِ الصَّحِيحِ عَنْهُ الَّذِي لا مَطْعَنَ فِيهِ، وَلا تَأْوِيلَ عَلَيْهِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيهِ وَبِمَذْهَبِهِ وَفُتْيَاهُ مِنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ وَنُظَرَائِهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَتْقَى لِرَبِّهِ وَأَشَحُّ عَلَى دِينِهِ مِنْ أَنْ يَرْوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقْضِي بِقَضَاءٍ وَيُفْتِي هُوَ بِخِلافِهِ، هَذَا لا يُتَوَهَّمُ مِثْلُهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ الْقَائِلُ فِي مَسْأَلَةٍ وَرَدَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَسْمَعْ فِيهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَلَمْ يَبْلُغْهُ عَنْهُ فِيهَا قَوْلٌ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي، ثُمَّ بَلَغَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ فُتْيَاهُ فِيهَا وَافَقَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِهَا، فَرَآهُ أَصْحَابُهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَرِحَ فَرَحًا لَمْ يَرَوْهُ فَرِحَ مِثْلَهُ مِنْ مُوَافَقَةِ فُتْيَاهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ كَانَتْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَهَذَا حَالُهُ فَكَيْفَ يَصِحُّ عَنْهُ أَنْ يَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُخَالِفُهُ. وَيَشْهَدُ أَيْضًا لِرِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ مَا رَوَاهُ وَكِيعٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ وَغَيْرُهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ:" دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں ایک سو اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا، جن میں سے بیس حقہ ہوں گے، بیس جذعہ، بیس بنات لبون، بیس بنات مخاض ہوں گی اور بیس بنو مخاض ہوں گے۔ یہ حدیث ضعیف ہے اور علم حدیث کے ماہرین کے نزدیک یہ کئی اعتبار سے ثابت نہیں ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ روایت اس روایت کی مخالف ہے، جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوعبیدہ نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے، جس سند پر طعن نہیں کیا جا سکتا، اور اس روایت کی تاویل نہیں کی جا سکتی، ابوعبیدہ اپنے والد کی نقل کردہ حدیث اور ان کے مذہب اور ان کے فتوے کے بارے میں خشف بن مالک اور اس جیسے دیگر افراد سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے پروردگار سے بہت ڈرنے والے تھے اور اپنے دین میں نہایت پختہ تھے، ان کے بارے میں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی روایت نقل کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے اور پھر اس کے خلاف فتویٰ دیں، یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے بارے میں گمان بھی نہیں کی جا سکتی، حالانکہ جب ان کے سامنے ایک مسئلہ آیا، تو انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”میں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہیں سنی ہے اور مجھے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کسی روایت کا کوئی علم نہیں ہے، اس لیے میں اس مسئلہ میں اپنی رائے پیش کروں گا، اگر وہ ٹھیک ہوئی، تو یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہو گی، اور اگر اس میں کوئی غلطی ہوئی، تو وہ میری طرف سے ہو گی۔“ پھر اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا کہ اس مسئلے کے بارے میں ان کا دیا ہوا فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تھا، تو ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ وہ اس بات سے اتنے خوش ہوئے کہ ان کا دیا ہوا فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہے، ان کے ساتھیوں نے انہیں اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا، تو جن کی یہ صفت ہو اور یہ حالت ہو، ان کے بارے میں یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی روایت نقل کریں اور پھر اس کے خلاف (فتویٰ دیں)۔ اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے، جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوعبیدہ نے نقل کیا ہے اور یہ روایت وکیع، عبداللہ بن وہب اور دیگر محدثین نے سفیان ثوری، منصور، ابراہیم نخعی کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت کی ادائیگی پانچ قسموں کے اونٹوں (کی شکل میں ہو گی)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3364]
ترقیم العلمیہ: 3318
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
خشف بن مالك الطائي ← عبد الله بن مسعود