🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3319 ترقیم الرسالہ : -- 3365
حَدَّثَنَا بِهِ الْقَاضِي حَدَّثَنَا بِهِ الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا" ، ثُمَّ فَسَّرَهَا كَمَا فَسَّرَهَا أَبُو عُبَيْدَةَ وَعَلْقَمَةُ عَنْهُ سَوَاءً، فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَإِنْ كَانَ فِيهَا إِرْسَالٌ فَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ هُوَ أَعْلَمُ النَّاسِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَبِرَأْيِهِ وَبِفُتْيَاهُ، قَدْ أَخَذَ ذَلِكَ عَنْ أَخْوَالِهِ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ يَزِيدَ، وَغَيْرِهِمْ مِنْ كُبَرَاءِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ الْقَائِلُ:" إِذَا قُلْتُ لَكُمْ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَهُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْهُ، وَإِذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ وَاحِدٍ سَمَّيْتُهُ لَكُمْ. وَوَجْهٌ آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ الْخَبَرَ الْمَرْفُوعَ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ بَنِي الْمَخَاضِ لا نَعْلَمُهُ، رَوَاهُ إِلا خِشْفُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ إِلا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَرْمَلٍ الْجُشَمِيُّ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لا يَحْتَجُّونَ بِخَبَرٍ يَنْفَرِدُ بِرِوَايَتِهِ رَجُلٌ غَيْرُ مَعْرُوفٍ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ الْعِلْمُ عِنْدَهُمْ بِالْخَبَرِ إِذَا كَانَ رُوَاتُهُ عَدْلا مَشْهُورًا، أَوْ رَجُلٌ قَدِ ارْتَفَعَ اسْمُ الْجَهَالَةِ عَنْهُ، وَارْتِفَاعُ اسْمِ الْجَهَالَةِ عَنْهُ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ رَجُلانِ فَصَاعِدًا، فَإِذَا كَانَ هَذِهِ صِفَتُهُ ارْتَفَعَ عَنْهُ اسْمُ الْجَهَالَةِ وَصَارَ حِينَئِذٍ مَعْرُوفًا، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ انْفَرَدَ بِخَبَرٍ وَجَبَ التَّوَقُّفُ عَنْ خَبَرِهِ ذَلِكَ حَتَّى يُوَافِقَهُ غَيْرُهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَوَجْهٌ آخَرُ أَنَّ خَبَرَ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ لا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْهُ إِلا حَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ، وَالْحَجَّاجُ فَرَجُلٌ مَشْهُورٌ بِالتَّدْلِيسِ وَبِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَنْ لَمْ يَلْقَهُ، وَمَنْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ قَالَ لِي حَجَّاجٌ لا يَسْأَلْنِي أَحَدٌ عَنِ الْخَبَرِ، يَعْنِي: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَلا تَسْأَلُونِي مَنْ أَخْبَرَكَ بِهِ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ: كُنْتُ عِنْدَ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ يَوْمًا فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ، ثُمَّ قَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ شَيْئًا، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، وَلا مِنَ الشَّعْبِيِّ إِلا حَدِيثًا وَاحِدًا، وَلا مِنْ فُلانٍ، وَلا مِنْ فُلانٍ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ بَضْعَةَ عَشَرَ كُلُّهُمْ قَدْ رَوَى عَنْهُ الْحَجَّاجُ، ثُمَّ زَعَمَ بَعْدَ رِوَايَتِهِ عَنْهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَلْقَهُمْ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُمْ، وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ بَعْدَ أَنْ جَالَسُوهُ وَخَبَّرُوهُ، وَكَفَاكَ بِهِمْ عِلْمًا بِالرِّجَالِ وَنُبْلا، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ وَسَمِعْتُ كَلامَهُ، فَذَكَرَ شَيْئًا أَنْكَرْتُهُ، فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ بِمَكَّةَ فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا وَلَمْ أَحْمِلْ أَيْضًا عَنْ رَجُلٍ عَنْهُ كَانَ عَدَّهُ مُضْطَرِبًا، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: لا يَنْبُلُ الرَّجُلُ حَتَّى يَدَعَ الصَّلاةَ فِي الْجَمَاعَةِ، وَقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: أَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ يُزَاحِمُنِي الْحَمَّالُونَ وَالْبَقَّالُونَ، وَقَالَ جَرِيرٌ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: أَهْلَكَنِي حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ. وَوَجْهٌ آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الثِّقَاتِ رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ فِيهِ، فَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَجَّاجٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرْنَا عَنْهُ، وَوَافَقَهُ عَلَى ذَلِكَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَخَالَفَهُمَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ فَرَوَاهُ عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَطَأِ أَخْمَاسًا:" عِشْرُونَ جِذَاعًا، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ"، فَجَعَلَ مَكَانَ الْحِقَاقِ بَنِي لَبُونٍ .
ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے: وہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت کی ادائیگی پانچ قسموں کے اونٹوں (کی شکل میں ہو گی)، پھر اس کے بعد ابراہیم نے اس کی وضاحت میں وہی الفاظ نقل کیے ہیں، جیسے ابوعبیدہ اور علقمہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیے ہیں۔ اگر اس روایت میں ارسال کو تسلیم کر لیا جائے، تو بھی ابراہیم نخعی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ان کی آراء اور ان کے فتاوی کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اس چیز کا علم اپنے ماموں علقمہ، اسود، اور عبدالرحمن سے حاصل کیا ہے اور ان کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اکابر شاگردوں سے حاصل کیا ہے۔ ابراہیم نخعی یہ فرماتے ہیں: جب میں آپ کے سامنے یہ کہوں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے وہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں سے سنی ہے، لیکن اگر میں نے کوئی بات کسی ایک شخص سے سنی ہو، تو میں اس کا نام آپ کے سامنے بیان کر دوں گا۔ اس مسئلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ مرفوع روایت، جس میں بنو مخاض کا ذکر ہے، ہمارے علم کے مطابق اسے صرف خشف بن مالک نے سیدنا عبداللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ ایک مجہول شخص ہے، اس کے حوالے سے صرف زید بن جبیر حشمی نے احادیث روایت کی ہیں اور علم حدیث کے ماہرین ایسی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کرتے، جسے نقل کرنے میں ایک مجہول راوی منفرد ہو، ان حضرات کے نزدیک کسی بھی روایت پر عمل کرنا اس وقت ثابت ہو گا، جب اسے روایت کرنے والا شخص عادل اور مشہور ہو یا کوئی ایسا شخص ہو، جسے مجہول قرار نہ دیا جا سکے، اور پھر اس کے حوالے سے دو یا دو سے زیادہ افراد اس روایت کو نقل کریں، کیونکہ اس صورت میں اس راوی کو مجہول قرار نہیں دیا جا سکے گا، اور وہ معروف شمار ہو گا، لیکن اگر اس شخص کے حوالے سے صرف ایک فرد نے روایت کو نقل کیا ہو اور وہ بھی اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہو، تو ایسی روایت کے بارے میں توقف کیا جائے گا، یہاں تک کہ دوسری روایت اس کے موافق آ جائے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ خشف بن مالک کی روایت کو ہمارے علم کے مطابق زید بن جبیر کے حوالے سے صرف حجاج بن ارطاة نے نقل کیا ہے، اور حجاج ایک ایسا شخص ہے، جو تدلیس کے حوالے سے مشہور ہے اور وہ ان حضرات کے حوالے سے بھی روایت نقل کر دیتا ہے، جن سے اس کی ملاقات نہ ہوئی ہو، اور جن سے اس نے احادیث کا سماع نہ کیا ہو۔ شیخ ابومعاویہ ضریر فرماتے ہیں: حجاج نے مجھ سے یہ کہا تھا: کوئی شخص مجھ سے روایت کے بارے میں سوال نہ کرے، یعنی میں جب تمہیں کوئی روایت بیان کروں، تو مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ آپ کو اس بارے میں کس نے بتایا ہے؟ یحییٰ بن زکریا بیان کرتے ہیں: ایک دن میں حجاج بن ارطاة کے پاس موجود تھا، اس نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا، پھر بولا: میں نے زہری سے کوئی روایت نہیں سنی، ابراہیم نخعی اور شعبی سے صرف ایک ایک روایت سنی ہے، میں نے فلاں سے بھی کوئی روایت نہیں سنی، فلاں سے بھی کوئی روایت نہیں سنی۔ اس طرح اس نے سترہ کے لگ بھگ افراد کا نام لیا، یہ سب حضرات وہ تھے، جن کے حوالے سے حجاج روایات نقل کرتا ہے اور پھر ان کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد اس نے یہ کہا کہ اس نے ان حضرات سے ملاقات نہیں کی اور ان حضرات سے کوئی روایت نہیں سنی۔ سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید القطان اور عیسیٰ بن یونس نے اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے بارے میں جان کر اس کی روایات کو متروک قرار دیا ہے اور آپ کے لیے ان حضرات کا علم رجال میں ماہر ہونا کافی ہے۔ سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حجاج بن ارطاة کے پاس گیا، میں اس کا کلام سن رہا تھا، اس نے ایک ایسی بات کا ذکر کیا، جو میرے نزدیک غلط تھی، تو میں نے اس کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی۔ یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں: میں نے مکہ میں حجاج بن ارطاة کو دیکھا، لیکن میں نے اس سے کوئی حدیث نوٹ نہیں کی، میں نے کسی شخص کے حوالے سے بھی اس سے کوئی حدیث نوٹ نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ یحییٰ بن سعید کے نزدیک حجاج روایات میں اضطراب نقل کرتا ہے۔ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: حجاج بن ارطاة کی نقل کردہ روایت کو استدلال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عبداللہ بن ادریس فرماتے ہیں: میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی اس وقت تک سمجھدار نہیں ہوتا، جب تک باجماعت نماز پڑھنا نہ چھوڑ دے۔ عیسیٰ بن یونس کہتے ہیں: میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نماز پڑھنے کے لیے نکلتا ہوں، تو راستے میں مزدور اور سبزی فروش رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ جریر بیان کرتے ہیں: میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مال اور مرتبہ کی محبت نے مجھے ہلاکت کا شکار کر دیا۔ اس مسئلے کا ایک پہلو یہ ہے کہ کئی ثقہ راویوں نے اس حدیث کو حجاج بن ارطاة کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے نقل کرنے میں اس روایت میں اختلاف کیا ہے۔ عبدالرحیم بن سلیمان نے حجاج کے حوالے سے اسے ان الفاظ میں نقل کیا ہے، جو ہم ان کے حوالے سے ذکر کر چکے ہیں، اس بارے میں عبدالواحد بن زیاد نے ان کی موافقت کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: اس میں پانچ طرح کے اونٹ ادا کیے جائیں گے، بیس جذعہ ہوں گے، بیس بنات لبون ہوں گی، بیس بنو لبون ہوں گے، بیس بنات مخاض ہوں گی، بیس نر بنو مخاض ہوں گے۔ انہوں نے حقہ کی بجائے بنو لبون ذکر کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3365]
ترقیم العلمیہ: 3319
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥خشف بن مالك الطائي
Newخشف بن مالك الطائي ← عبد الله بن مسعود
مجهول
👤←👥زيد بن جبير الطائي
Newزيد بن جبير الطائي ← خشف بن مالك الطائي
ثقة
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← زيد بن جبير الطائي
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥يحيى بن سعيد الأموي، أبو أيوب
Newيحيى بن سعيد الأموي ← الحجاج بن أرطاة النخعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← يحيى بن سعيد الأموي
صحابي
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي
ثقة ثبت
👤←👥العباس بن يزيد البحراني، أبو الفضل
Newالعباس بن يزيد البحراني ← منصور بن المعتمر السلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥القاسم بن إسماعيل الضبي، أبو عبيد
Newالقاسم بن إسماعيل الضبي ← العباس بن يزيد البحراني
ثقة