سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
39. باب ما روي من قول النبى صلى الله عليه وسلم: الأذنان من الرأس
باب: نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان منقول ہے: ”دونوں کان سر کا حصہ ہیں“
ترقیم العلمیہ : 341 ترقیم الرسالہ : -- 346
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، نا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَضْمَضَةُ وَالاسْتِنْشَاقُ سُنَّةٌ، وَالأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" . إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ضَعِيفٌ، وَالْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ مِثْلُهُ. خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، فَرَوَاهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَلا يَصِحُّ أَيْضًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہے اور دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔“ اس روایت کا راوی اسماعیل بن مسلم ضعیف ہے اور قاسم بن غصن بھی اس کی مانند ضعیف ہے۔ علی بن ہاشم نے اس روایت کو نقل کرنے میں کچھ اختلاف کیا ہے، انہوں نے اسے اپنی سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے، لیکن یہ بھی مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 346]
ترقیم العلمیہ: 341
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 282، 331، 332، 333، 334، 341، 342، 343، 344، 345، 346، 348، 349، 350، 351، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 38، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 160، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10784»
«قال ابن حجر: هو حديث ضعيف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 39)»
«قال ابن حجر: هو حديث ضعيف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 39)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي